سوال 7370

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جن اعمال سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں مثلاً وضو، مسجد کی طرف چل کر جانا وغیرہ. اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو کبائر میں تخفيف ہوتی ہے اور اگر کبیرہ صغیرہ دونوں ہی نہ ہوں تو ان کے عوض درجات بلند ہوتے ہیں۔
کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اچھا اصولی طور پر تو یہ بات کہی جا سکتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد احادیث پر ہے۔ لیکن اہل علم کو اپنی تعبیر اور کلمات کا صحیح استعمال کرنا چاہیے تاکہ اہل بدعات یا اہل شرک اس سے کوئی غلط مفہوم اخذ نہ کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فرمان ہے صحیح مسلم میں جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں بشرط یہ ہے کہ بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ وضو، نماز، جمعہ، رمضان اور دیگر نیک اعمال جو ہیں وہ صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں لیکن کبیرہ گناہوں سے اجتناب لازم ہے۔ اب اگر کسی شخص کے ذمے جیسا کہ آپ نے کہا کہ صغیرہ گناہ نہ ہوں۔ تو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ان اعمال کا اجر ضائع نہیں جاتا بلکہ اس کے بدلے میں ان کے درجات بلند کیے جاتے ہیں۔ یا some time کبیرہ گناہوں کے بوجھ میں کسی درجہ کی تخفیف کا سبب بن جاتے ہیں اگرچہ کبیرہ گناہ مکمل طور پر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ ٹھیک ہے۔ تو آپ نے جو جو جملہ لکھا ہے نا کہ اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو کبائر میں تخفیف ہوتی ہے۔ اور کبیرہ اور صغیرہ دونوں نہ ہوں تو درجات بلند ہوتے ہیں۔ تو میننگز کے اعتبار سے تو بات صحیح ہے۔ لیکن اگر آپ اس طرح یہ بات کر دیں کہ اگر صغیرہ گناہ موجود نہ ہوں تو ان نیک اعمال کا اجر ضائع نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندے کے درجات بلند فرما کرتا ہے۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک کبیرہ گناہوں کے بوجھ میں تخفیف کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ البتہ کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ شرط ہے تاکہ کوئی بھی اہل بدعات، اہل شرک میں سے آپ کے کسی جملے سے کوئی غلط اپنے عقیدے، اپنے غلط عقیدے، اپنے غلط عمل کے لیے دلیل اس میں سے نہ پکڑے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ