سوال 7410
سر کے بال بیس سال کی عمر میں سفید ہو گئے ہیں سیاہ خضاب لگا سکتے ہیں؟
جواب
کالا خضاب لگانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔
فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ (کے سفید پھولوں) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (سفیدی) کو کسی چیز سے تبدیل کر دو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔“
[صحيح مسلم حدیث نمبر : 5509]
قَوْمٌ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ آخِرَ الزَّمَانِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخیر زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کبوتر کے پوٹوں کی طرح کالا خضاب لگائیں گے، انہیں جنت کی خوشبو نصیب نہ ہو گی
[سنن نسائی حدیث نمبر : 5078]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
علی الراجح سیاہ خضاب سے اجتناب کرنا ہے ۔
اور یہ ایک استثنائی اور عذر پر مشتمل صورت ہے جس میں غرر کی صورت نہیں بنتی ہے ۔
تو عذر شرعی کے سبب لگانے میں حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر جو جوان غیر شادی شدہ خواتین و بیٹیاں،بہنیں ہیں۔
البتہ جو بڑی عمر کے لوگ ہیں وہ اجتناب کریں گے اور کتم و مہندی ملا کر استعمال کریں گے جو براؤن کلر بنے گا۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ


