سوال 7259
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو دھمکی دی کے میں آپ کے گھر کو آگ لگا دوں گا۔۔۔ اس روایت کا سندا حکم کیا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے علم کے مطابق یہ روایت قابلِ قبول اور صحیح ہے، البتہ اس کے پس منظر میں ایک پورا معاملہ موجود ہے، اور وہ خلیفہ وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اطاعت کا مسئلہ تھا۔
اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بات کہی تھی، وہ بطورِ تنبیہ اور تادیب کہی تھی، نہ کہ کسی عداوت، بغض یا ذاتی دشمنی کی بنا پر۔
یعنی یہ ایک تنبیہی اندازِ گفتگو تھا کہ اگر اس معاملے میں کوئی شکایت یا خلاف ورزی سامنے آئی تو پھر سخت اقدام کیا جا سکتا ہے۔ جیسے بعض اوقات انسان ڈانٹنے، روکنے یا تنبیہ کرنے کے لیے کلمہ زجر اور کلمہ توبیخ استعمال کرتا ہے، اسی نوعیت کی بات تھی۔
لہذا اس واقعے کو اس کے سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا درست نہیں۔ بعد کے لوگوں نے اس بات کا بتنگڑ بنا دیا اور اسے اصل پس منظر سے الگ کر کے بیان کرنا شروع کر دیا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سیدنا عمر فاروق پر الزام سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی الله عنھما کے حوالے سے جو واقعی ہے معلول و منقطع ہے
حدثنا محمد بن بشر حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا زيد بن أسلم عن أبيه أسلم أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان علي والزبير يدخلان على فاطمة بنت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: يا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم والله ما من الخلق أحد أحب إلينا من أبيك، وما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك، وأيم الله ما ذاك بمانعي أن أجتمع هؤلاء النفر عندك؛ أن أمرتهم أن يحرق عليهم البيت، قال: فلما خرج عمر جاؤوها فقالت: تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف بالله لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت، وأيم الله ليمضين لما حلف عليه، فانصرفوا راشدين، فرءوا رأيكم ولا ترجعوا إلي، فانصرفوا عنها فلم يرجعوا إليها حتى بايعوا لأبي بك
مصنف ابن أبي شيبة :(39827)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﻗﺜﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﻗﺜﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ، ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺳﻠﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ: ﻟﻤﺎ ﺑﻮﻳﻊ ﻷﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺑﻌﺪ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻲ ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ ﺑﻦ اﻟﻌﻮاﻡ ﻳﺩﺧﻞاﻥ ﻋﻠﻰ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻓﻴﺸﺎﻭﺭاﻧﻬﺎ، ﻓﺒﻠﻎ ﻋﻤﺮ ﻓﺩﺧﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﺑﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﻣﺎ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺨﻠﻖ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻨﺎ ﻣﻦ ﺃﺑﻴﻚ، ﻭﻣﺎ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺨﻠﻖ ﺑﻌﺪ ﺃﺑﻴﻚ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻨﺎ ﻣﻨﻚ، ﻭﻛﻠﻤﻬﺎ، ﻓﺪﺧﻞ ﻋﻠﻲ ﻭاﻟﺰﺑﻴﺮ ﻋﻠﻰ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻓﻘﺎﻟﺖ: اﻧﺼﺮﻓﺎ ﺭاﺷﺪﻳﻦ، ﻓﻤﺎ ﺭﺟﻌﺎ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺣﺘﻰ ﺑﺎﻳﻌﺎ۔
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل :(532)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ، ﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ، ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺳﻠﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ ﻟﻔﺎﻃﻤﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ: ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻲ ﻣﻦ ﺃﺑﻴﻚ، ﻭﻻ ﺃﺣﺪا ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻲ ﺑﻌﺪ ﺃﺑﻴﻚ ﻣﻨﻚ
الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:(2952)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺳﻠﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺑﻠﻎ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺃﻥ ﻧﺎﺳﺎ، ﻳﺠﺘﻤﻌﻮﻥ ﻓﻲ ﺑﻴﺖ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻓﺄﺗﺎﻫﺎ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﺑﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻨﺎ ﻣﻦ ﺃﺑﻴﻚ ﻭﻻ ﺑﻌﺪ ﺃﺑﻴﻚ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻴﻨﺎ ﻣﻨﻚ ﻓﻘﺪ ﺑﻠﻐﻨﻲ ﺃﻥ ﻫﺆﻻء اﻟﻨﻔﺮ ﻳﺠﺘﻤﻌﻮﻥ ﻋﻨﺪﻙ ﻭاﻳﻢ اﻟﻠﻪ ﻟﺌﻦ ﺑﻠﻐﻨﻲ ﺫﻟﻚ ﻷﺣﺮﻗﻦ ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺒﻴﺖ ﻓﻠﻤﺎ ﺟﺎءﻭا ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﺇﻥ اﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻗﺎﻝ ﻛﺬا ﻭﻛﺬا ﻓﺈﻧﻪ ﻓﺎﻋﻞ ﺫﻟﻚ، ﻓﺘﻔﺮﻗﻮا ﺣﺘﻰ ﺑﻮﻳﻊ ﻷﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻓﻔﻲ ﻗﻮﻝ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻟﻠﻘﺎﺹ: ﻟﻮ ﻛﻨﺖ ﺗﻘﺪﻣﺖ ﺇﻟﻴﻚ ﻟﻘﻄﻌﺖ ﻣﻨﻚ ﻃﺎﺑﻘﺎ ﺩﻝ ﺑﺬﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﻤﺨﺎﻟﻒ ﺇﺫا ﺧﺎﻟﻒ ﻟﻤﺎ ﻧﻬﻲ ﻋﻨﻪ ﺃﻭﺟﺐ ﺫﻟﻚ ﻋﻘﻮﺑﺘﻪ
المذكر والتذكير لابن أبي عاصم :(19)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻜﺮﻡ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ اﻟﻘﺎﺿﻲ، ﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ اﻟﻬﻤﺪاﻧﻲ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﺆﻣﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﺰﻋﻔﺮاﻧﻲ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﺣﺮﺏ، ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺳﻠﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﺃﻧﻪ ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﺑﻨﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﻓﺎﻃﻤﺔ، ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﺣﺪا ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻨﻚ، ﻭاﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﺑﻌﺪ ﺃﺑﻴﻚ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻲ ﻣﻨﻚ
مستدرک حاکم :(4736)
حاکم نے کہا:
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ اﻹﺳﻨﺎﺩ ﻋﻠﻰ ﺷﺮﻁ اﻟﺸﻴﺨﻴﻦ ﻭﻟﻢ ﻳﺨﺮﺟﺎﻩ
حافظ ذہبی نے تلخیص المستدرک :(4736) میں کہا:
ﻏﺮﻳﺐ ﻋﺠﻴﺐ
مستدرک حاکم کی سند ضعیف ہے ۔
اور دیکھیے تاریخ بغداد:6/ 75
یہ روایت بظاہر صحیح ہے مگر ہے معلول ومنقطع
پہلی بات کہ متن میں نکارت ہے
سیدنا عمر بن خطاب رضی الله جیسے عظیم الشان جلیل القدر صحابی ایسا کیسے کہہ سکتے تھے یہ تو آپ کی شان وعدالت کے لائق ہی نہیں کہ آپ ایسا کہیں وہ بھی بنت رسول مکرم صلی الله عليه وسلم اور سیدنا علی رضی الله عنه کی زوجہ سیدۃ نساء اھل الجنۃ کے بارے میں
دوسری بات عبیداللہ کا اصحاب زید بن اسلم سے اس روایت کو بیان کرنے میں تفرد ہے ان کے سوا امام ثوری، امام مالک وغیرہ کہاں ہیں جو اس واقعہ کو بیان نہیں کرتے ہیں یہ بھی ایک قرینہ ہے اس کے معلول ہونے کا
تیسری بات مرسل ومنقطع ہے
تابعی اسلم 11 ہجری میں سیدنا عمر بن خطاب کے غلام بنے جب انہیں سیدنا ابو بکر نے 11 ہجری میں امیر حج بنا کر بھیجا تو آپ نے اسی سال اشعریوں سے مولی اسلم کو خریدا
دلیل:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺷﻌﻴﺐ اﻟﺤﺮاﻧﻲ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ اﻟﻨﻔﻴﻠﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻗﺎﻝ: ﺑﻌﺚ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻟﺼﺪﻳﻖ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ – ﻛﻤﺎ ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻧﺎﻓﻊ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺳﻨﺔ ﺇﺣﺪﻯ ﻋﺸﺮﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺠﺔ، ﻓﺄﻗﺎﻡ ﻟﻠﻨﺎﺱ اﻟﺤﺞ، ﻭاﺑﺘﺎﻉ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﺴﻨﺔ ﻣﻮﻻﻩ ﺃﺳﻠﻢ ﻣﻦ ﺃﻧﺎﺱ ﻣﻦ اﻷﺷﻌﺮﻳﻴﻦ ۔
معرفۃ الصحابہ لأبی نعیم:(868)1/ 255 صحيح
سند کے روات کا تعارف:
(1)امام دارقطنی، ابو بکر البرقانی، امام ابو نعیم الاصبھانی وغیرہ کے استاد ابو علی محمد بن احمد بن حسن بن اسحاق بن ابراہیم بن عبدالله البغدادی المعروف بابن الصواف ثقہ مامون ہیں
دیکھیے تاریخ بغدا:2/ 115(90)،المنتظم لابن الجوزی :14/ 203، 204(2689) اور دیکھیے التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن والمسانید:(19)
حافظ ذہبی نے کہا: المحدث، الحجة( العبر فى خبر من غبر:2/ 104
اور کہا:
اﻟﺸﻴﺦ، اﻹﻣﺎﻡ، اﻟﻤﺤﺪﺙ، اﻟﺜﻘﺔ، اﻟﺤﺠﺔ ۔۔۔۔۔۔
سیر اعلام النبلاء:16/ 184
(2) ابو شعیب عبدالله بن حسن بن احمد الحرانی ثقہ، صدوق راوی ہیں
تفصیل دیکھیئے تاریخ بغداد:(5005)11/ 94
حافظ ذہبی نے کہا:
اﻟﺸﻴﺦ، اﻟﻤﺤﺪﺙ، اﻟﻤﻌﻤﺮ، اﻟﻤﺆﺩﺏ
سیر اعلام النبلاء:13/ 536
(3) ابو جعفر النفیلی ثقہ، مامون، حافظ ومحدث ہیں
دیکھے سیر اعلام النبلاء:10/ 634تا 637 ،تھذیب الکمال:(3545)
(4) ابو عبدالله محمد بن سلمہ الحرانی ثقہ فاضل ہیں
دیکھیے تھذیب الکمال:(5255)
(5)محمد بن اسحاق بن یسار روایت حدیث میں صدوق، حسن الحدیث اور سیر میں امام و ثقۃ ہیں ائمہ نقاد نے آپ کی توثیق کی ہے
دیکھیے تھذیب الکمال:(5057) وکتب تراجم
( 6)نافع مولی ابن عمر ثقۃ، ثبت ہیں
دیکھیے تقریب التھذیب:(7086)
(7) سیدنا ابن عمر رضی الله عنه جلیل القدر محدث، امام وفقیہ عالم صحابی ہیں
امام ابن حبان نے کہا:
ﻓﻠﻤﺎ ﺩﺧﻞ ﺷﻬﺮ ﺫﻱ اﻟﺤﺠﺔ ﺣﺞ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺳﻨﺔ ﺇﺣﺪﻯ ﻋﺸﺮﺓ ﻭاﺷﺘﺮﻯ ﻣﻮﻻﻩ ﺃﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺣﺠﺘﻪ ﺗﻠﻚ ﺛﻢ ﺭﺟﻊ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺪﻳﻨﺔ
الثقات:2/ 172
ابن اثیر نے کہا:
ﻭﻓﻴﻪ، ﺃﻋﻨﻲ ﺳﻨﺔ ﺇﺣﺪﻯ ﻋﺸﺮﺓ، اﺷﺘﺮﻯ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻣﻮﻻﻩ ﺃﺳﻠﻢ ﺑﻤﻜﺔ ﻣﻦ ﻧﺎﺱ ﻣﻦ اﻷﺷﻌﺮﻳﻴﻦ۔
الکامل فی التاریخ:2/ 200
حافظ ابن کثیر نے کہا:
ﻭﻓﻴﻬﺎ اﺷﺘﺮﻯ ﻋﻤﺮ ﻣﻮﻻﻩ ﺃﺳﻠﻢ ﺛﻢ ﺻﺎﺭ ﻣﻨﻪ ﺃﻥ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪ ﺳﺎﺩاﺕ اﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ
البدایہ والبھایہ:6/ 389
اب سوال یہ ہے کہ آپ سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں 11 ہجری کو سفر حج پر گیے اسی سال آپ نے اسلم تابعی کو اشعریوں سے خریدا تو ایک شخص جب ان دنوں مکہ میں تھا مدینہ میں نہیں تھا نہ ہی اسلم کا مدینہ میں خلافت ابو بکر رضی الله عنه سے پہلے یا اس وقت میں ہونا ثابت ہے تو اسلم تابعی نے یہ واقعہ کس سے سنا انہیں یہ خبر کس نے دی
دوسرے الفاظ میں اس سارے واقعہ کے وہ عینی شاہد ہی نہیں تھے تو یہ واقعہ انہوں نے کس سے سنا۔۔۔۔۔۔
اور اہم بات کی اس روایت میں یہ کہیں نہ موجود کی گھر جلا دیا تھا بلکہ ایک خاص معاملہ کے سبب سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن یہ روایت ہی سرے سے ثابت نہیں ہے بعض اہل علم جیسے سعد الشثری وغیرہ کا اسے صحیح کہنا مرجوح ہے اور اس کی دیگر تاریخ طبری کی سندیں سخت ضعیف و منکر ہیں۔
بلکہ اس روایت میں تو سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کا قدر اپنی عقیدت و محبت اور احترام کا اظہار فرما رہے ہیں جو دشمنان صحابہ کرام،دشمنان اسلام کو کبھی نظر نہیں آئیں گے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




