سوال 7510

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاته
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ہاتھ کھلے چھوڑ کر نماز پڑھی
پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہوئی ہے حدیث صحیح کہ ہاتھ باندھے پیارے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ کر نماز پڑھی ہے، تو ایسا کیوں ہوا ہوگا مطلب ہاتھ کھلے کیوں چھوڑے ہوں گے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته سیدنا عبداللہ بن زبیر رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑتے تھے، ایسی تو کوئی روایت نہیں!
روایت میں اتنے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نماز میں ہاتھ چھوڑا کرتے تھے، رکوع کے بعد نہیں!
تابعی عمرو بن دینار کہتے ہیں :

كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِذَا صَلَّى يُرْسِلُ يَدَيْهِ.

حضرت ابنِ زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھ چھوڑ دیتے تھے
[مصنف ابن ابي شیبة حدیث نمبر : 3993]
حدیث کے الفاظ ہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نماز میں ہاتھ چھوڑا کرتے تھے، یہ بات کب کی ہے؟ حدیث میں کون سے الفاظ ہیں جو یہ ثابت کریں؟ کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما رکوع سے قبل بھی ہاتھ چھوڑتے تھے
ممکن ہے کسی کے ذہن میں آئے کہ یہاں تو الفاظ “نماز پڑھنے” کے ہیں تو اس سے مراد پوری نماز میں ہاتھ چھوڑنا ہوا، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، کیونکہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے ہوئے دیکھا
[مسند احمد حدیث نمبر: 18846]
اس روایت میں “فِي الصَّلَاةِ” یعنی “نماز میں” کے الفاظ آئے ہیں، حالانکہ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع ہو کر سلام پھیرنے تک مکمل ہوتی ہے، اگر کوئی صرف ان الفاظ کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ نکالے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اندر جب بیٹھتے بھی تھے، حتیٰ کہ دو سجدوں کے درمیان بھی، تو ہاتھ باندھتے تھے تو یہ استدلال درست ہو گا؟ نہیں ہرگز نہیں کیونکہ ہر عمومی لفظ کو اس کے محل اور طریقہ نماز کے مطابق سمجھا جاتا ہے، اس لئے یہاں بھی یہ متعین کرنا ہو گا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کب ہاتھ چھوڑا کرتے تھے!
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ