سوال 7398
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب ایک خاتون کا سوال کے شوہر کی زینت کے لئے مصنوعی بالوں کی وگ جو انسانی بالوں سے نہیں بنتی پہنا جائز جو کے اتر بھی سکتی ہے۔ رہنمائی فرمائیں
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مصنوعی بال، وگ لگانا ہر صورت میں حرام ہے۔ باعث لعنت ہے۔ خواہ عذر ہو یا نا ہو۔
[صحیح بخاری: 5205]
کتاب: نکاح کا بیان
باب: گناہ میں اپنے خاوند کی اطاعت نہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا، فَقَالَ: لَا، إِنَّهُ قَدْلُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔
ہیئر ٹرانسپلانٹ طریقہ علاج ہے اس کا تو جواز ہے لیکن وگ، مصنوعی بال لگوانے کا کوئی جواز نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ


