سوال 7346
ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ
کیا کوئی زندہ اور صحیح سالم شخص عمرہ پر جانے والےکو کہہ سکتا ہے کہ میری طرف سے بھی عمرہ کر دینا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زندہ ہو یا فوت شدہ، دونوں کی طرف سے نیابتا عمرہ/ حج کرنا جائز ہے۔
اگر کوئی مالی یا بدنی طور پر حج/عمرہ کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی دوسرے کو گزارش کر سکتا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حج اور عمرہ فوت شدہ موحد کی طرف سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وہ جو سواری کے کبھی قابل نہیں ہو سکتا۔ سواری کے قابل کبھی نہیں ہو سکتا، سفر اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کی جان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ تو اس کی طرف سے بھی حج کیا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ جو شوقیہ چلا ہوا ہے کہ میرے پاس تو وقت نہیں ہے۔ میرے پاس تو وسائل نہیں ہیں۔ تو جس کے پاس وقت نہیں ہے اس کی طرف سے بھی نہیں ہوگا اور جس کے پاس وسائل نہیں ہیں اس کی طرف سے بھی نہیں ہوگا، کیونکہ وہ مکلف ہی نہیں ہے۔ پریشان کیوں ہو رہا ہے وہ؟ خود ساختہ عمرے جو لوگوں نے بنا لیے ہیں۔ جزاک اللہ کہہ کے۔ یہ درست نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



