سوال 7311
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری نند کے شوہر بینک میں ملازم ہیں۔ اور ان کے پاس سودی کمپنی کے شیئر بھی ہیں۔ وہ ہمارے گھر جب آتی ہے تو بچوں کے لئے تحائف لاتی ہیں۔ کیا ہم ان کے تحفے لے سکتے ہیں۔ یا پھر ان کو منع کر دیں منع کرتے ہیں تو رشتہ داری خراب ہو سکتی ہے۔ قرآن و حدیث اس سلسلے میں کیا رہنمائی کرتا ہیں؟
اس کی وضاحت کر دیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں اس بنیاد پر قطع رحمی قطع تعلق تو نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ کراہت کا پہلو غالب ہونا چاہیے ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے دیے ہوئے تحائف کسی بھی شکل میں وہ آپ لوگوں کو دل سے نہیں بھاتے۔ آپ لوگ کراہت محسوس کرتے ہیں۔ یہ پیغام واضح طور پر ان تک جانا چاہیے اور کبھی کبھی دو ٹوک کہنا بھی چاہیے کہ یہ آپ کی آمدن کے مسائل علماء بتاتے ہیں اس طرح ہے۔ صحیح نہیں ہے آپ کو اصلاح کرنی چاہیے اس طرح تو کبھی کبھار انکار بھی کر دیں۔ کبھی کبھار قبول بھی کر لیں۔ بین بین معاملہ رکھیں اور دعوتی پہلو کو غالب رکھیں۔ کراہت کے ساتھ قبول کیے جا سکتے ہیں کبھی کبھار۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
اگر کسی شخص کی پوری آمدنی ہی حرام ذرائع سے ہو یا یقینی طور پر معلوم ہو کہ جو تحفہ دیا جا رہا ہے وہ خالص سودی یا کسی دوسرے حرام مال سے خریدا گیا ہے تو ایسا تحفہ قبول کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرام مال سے نفع اٹھانا ہے۔
لیکن اگر اس کا مال مخلوط ہو اس میں حلال اور حرام دونوں کی آمیزش ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ دیا جانے والا تحفہ حرام مال ہی سے خریدا گیا ہے تو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہے
دلائل:
1- قرآن مجید
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾
“گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔” [سورۃ المائدہ: 2]
یہ آیت سود اور دیگر حرام معاملات میں تعاون سے منع کرتی ہے لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ جس شخص کی آمدنی میں حرام کی آمیزش ہو اس کے ہر مال اور ہر تحفے کو حرام قرار دے دیا جائے۔
2- اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا:
وأخذهم الربا وقد نهوا عنه
“اور ان کے سود لینے کی وجہ سے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔”
[سورۃ النساء: 161]
اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے ان سے معاملات فرمائے۔
سیدہ عائشہ رضي الله عنها بیان کرتی ہیں:
أن النبي ﷺ اشترى طعاما من يهودي إلى أجل، ورهنه درعا من حديد
“نبی ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔”
[صحیح بخاری: 2509]
اگر محض کسی کے سودی معاملات کی وجہ سے اس سے ہر قسم کا لین دین ناجائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ایسا معاملہ نہ فرماتے۔
3- حضرت انس رضي الله عنه روایت کرتے ہیں:
أن يهودية أتت النبي ﷺ بشاة مسمومة فأكل منها
“ایک یہودیہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زہر آلود بکری بطور ہدیہ پیش کی، آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا۔”
[صحیح بخاری: 2617]
حالانکہ یہود سود بھی کھاتے تھے اور دیگر حرام معاملات میں بھی مبتلا تھے اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ معاملات کیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے مال میں حلال و حرام کی آمیزش ہو اس سے اصل معاملہ جائز ہے جب تک کسی معین چیز کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو۔
والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم محمد سفیان بن امان اللہ حفظہ اللہ



