سوال 7371

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیوخ سے توجہ کی درخواست ہے۔
قال الإمام الثعلبي في الكشف والبيان: أخبرنا أبو الحسن الخبازي غير مرة، عن الشيخ الحافظ ابن أبي عاصم، حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا أبو بكر العطار، حدثنا السدي بن يحيى، عن شجاع، عن أبي طيبة الجرجاني، قال: دخل عثمان بن عفان على عبد الله بن مسعود يعوده في مرضه الذي مات فيه، فقال: ما تشتكي؟ قال: أشتكي ذنوبی۔
قال: مَا تَشْتَهِي؟ قال: أشتهي رحمة ربي، قال: أفلا ندعو الطبيب؟ قال: الطبيب أمرضني، قال: أفلا نأمر بعطائك؟ قال: لا حاجة لي به، قال: أندفعه إلى بناتك؟ قال: لا حاجة لهن بها، قد أمرتهن أن يقرأن سورة الواقعة، وإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:
من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم تصبه فاقة أبداً.
وحديث ابن مسعود أخرجه مرفوعاً دون القصة أبو عبيد في الفضائل، وابن الضريس، والحارث بن أبي أسامة، وأبو يعلى، وابن مردويه، والبيهقي في شعب الإيمان كما في الدر المنثور.
(1) أخرج ابن مردويه عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:
سورة الواقعة سورة الغنى، فاقرؤوها وعلِّموها أولادكم.
وأخرج الديلمي عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:
علِّموا نساءكم سورة الواقعة فإنها سورة الغنى.
(2) أخرج أبو عبيد عن سليمان التيمي قال: قالت عائشة للنساء:
لا تعجز إحداكن أن تقرأ سورة الواقعة. الدر المنثور.

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ثابت نہیں۔
شجاع اور ابو طیبہ مجہول ہیں.
سندہ ضعیف
سورت واقعہ کی فضیلت پر الگ سے کوئی روایت بھی ثابت نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
یہ فضیلت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور یہ روایت سند و متن کے ساتھ مضطرب و منکر ہے۔
یہ روایت کئ طرق و اسانید سے
فضائل الصحابة لأحمد :(1247)،مسند الحارث:(721) ،
عمل اليوم والليلة لابن السني :(680) ،أمالي ابن بشران الجزء الثاني:(1128)، شعب الإيمان للبيهقى :(2268 ،2269 ،2270) ،ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:(2876) ،الترغيب والترهيب لقوام السنة:(957) بيان الوهم والإيهام :4/ 662 تا 664( بمع ابن القطان کے نقد وتحقيق کے)
،إتحاف الخيرة المهرة للبوصيرى :6/ 281 ،المطالب العاليه لابن حجر :15/ 307 ،تاریخ دمشق 33/ 186 تا 188 ،فضائل القرآن للمستغفري :(938) ،فضائل القرآن للقاسم بن سلام : ص:257
تفصیل سے بحث و علل دیکھیے تخريج أحاديث الكشاف:3/ 411 تا 414(1295) میں اور مزید الضعيفة للألباني :(289) ،العلل المتناهية لابن الجوزي :(151)
منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث :2/ 869 ، 870 ، لسان الميزان :4/ 235
امام أحمد نے اس روایت کو منکر کہا
المنتخب من علل الخلال:(49)
اس کی تفصیل منهج الإمام أحمد میں دیکھیے
ائمہ محدثین نے غیر ثابت،غیر محفوظ،منکر،موضوع روایات اس لئے جمع کیں کہ دفاع حدیث رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کا حق ادا ہو اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی احادیث و ارشادات کے ساتھ ضعفاء، کذابین و وضاعین و مجاہیل و متروکین رواۃ کی بیان کردہ روایات گھل مل نہ جائیں اور علوم حدیث سے ناواقف لوگ ایسی روایات کو حقیقت میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث وارشادات نہ سمجھنے لگ جائیں
یعنی ایسی روایات صرف معرفت و پہچان کے لئے نقل اور جمع کیں ناں کہ دلیل و حجت کے ارادے سے ۔
اگر آئمہ محدثین ایسے لوگوں کی روایات،اصول تحقیق اور راویان حدیث کے حالات زندگی قلم بند نہ کرتے تو آج ہمارے پاس صحیح اور غیر صحیح روایات میں فرق کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہوتا
اور ہم ضعفاء و مجاہیل کی روایات کو بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث سمجھتے اور عمل کرتے ۔
بہرحال حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم وہی ہے جو شروط صحت پر پورا اترتی ہے اور ہر قسم کی علل سے محفوظ ہے۔
رزق کے حصول و برکت کے لئے
تقوی،استغفار،رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری،صلہ رحمی،درود پاک اور ذکر و شکر کو اختیار کریں ۔
قرآن وحدیث سے صحیح معنوں میں تعلق قائم کریں اور حقیقی مسلمان بنیں۔
إنما الأعمال بالنيات کے مطابق
ہی حاصل ہوتا ہے
اگر ایک بندہ توحید وسنت کا پیروکار ہے، صاحب تقوی و اخلاص ہے اور گناہوں سے بچتا ہے تو اسے رزق حلال کی طرح سے رب العالمین کی طرف سے ملتا ہے
ایسا شخص اگر اچھے ارادے سے کوئی سی سورت و وظائف پڑھتا ہے تو یہ اضافی چیز ہے اور اصل اسباب پہلے سے اس میں موجود ہیں
باقی اس باب کی کوئی روایت درجہ احتجاج کو نہیں پنہچتی ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ