سوال 7434

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک لیٹر پکوان آئل میں چوہا گرا پھر وہ زندہ نکل آیا تو کیا وہ آئل ناپاک ہوگا یا نہیں؟ دلیل کی روشنی میں وضاحت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب

آئل پاک ہے، ناپاک ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ جو ناپاک کہتے ہیں دلیل ان کے ذمے ہے۔

فضیلۃ الشیخ مفتی عبدالولی حقانی حفظہ اللّٰہ

چوہا چونکہ زندہ نکل گیا اس لیے اس کا حکم وہ تو نہیں ہے کہ جب چوہا اندر گر جائے مر جائے تو اگر جما ہوا گھی ہے تو حدیث میں ہے کہ پھر بھی اس کے اطراف کا حصہ نکال دو لیکن یہاں پر تو چونکہ چوہا زندہ نکل گیا ہے تو ایسی صورت میں وہ آئل حرام تو نہیں ہوا لیکن وہ ناپاک چوہا خود بھی ناپاک ہے وہ چونکہ اس میں گندگی بھی کھاتا ہے اور جسم بھی اس کا نالی میں گندگی میں ادھر ادھر ہوتا ہے تو اس لحاظ سے اس کو جو ہے مشکوک تو ہو گیا تیل بہتر یہ ہے کہ وہ کسی اور چیز میں استعمال میں لے آئیں اور کھانے کے استعمال میں نہ لائیں کیونکہ بیچ میں یہ بھی بہت بات مشہور ہوئی تھی کہ چوہوں نے جن چیزوں میں منہ ڈالا وہاں پر ان چیزوں کے کھانے سے بہت ساری بیماریاں پھیل گئی بلی کے بارے میں تو وضاحت ہے کہ اس کا جھوٹا جو ہے وہ ناپاک نہیں ہے باقی جو جانور ناپاک ہے تو اس کا جھوٹا بھی ناپاک ہے اور یہاں پر صرف اس کا جھوٹا یا اس کا منہ ہی نہیں بلکہ اس کا پورا وجود جو ہے وہ معلوم کہاں کہاں گندگی میں جاتا ہے اور پھر وہ اس میں گر گیا تو بہتر یہ ہے کہ اس کو کھانے کے استعمال میں نہ لائیں اگر وہ حرام نہیں ہے کھانے میں تو کم سے کم پاکیزہ اور طیب بھی نہیں ہے جب اللہ نے فرمایا تو بہرحال اور جہاں شک آ جائے اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیے تو کسی اور استعمال میں آ جاتا ہے آج کل تو صابن بنانے میں اور مختلف چیزوں میں استعمال کرتے ہیں استعمال میں آ جائے گا اور کھانے سے پرہیز کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

فضلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللّٰہ