سوال 7460
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخ سے سوال ہے کہ طلاق مغلظہ کے بعد میاں بیوی بچوں کی خاطر ایک گھر میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
قرآن وسنت کے مطابق جواب سے نوازیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
طلاقِ مغلظہ سے مراد عموماً تین طلاقیں لی جاتی ہیں۔ اگر واقعی تین شرعی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی گنجائش ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾
یعنی جب تک وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے۔ البتہ یہ نکاح باقاعدہ اور حقیقی نکاح ہو، فرمائشی نکاح یا حلالے کے نام پر نہ ہو، ورنہ ایسی صورت میں وعید وارد ہوئی ہے اور یہ عمل ملعون ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ انسان کو پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو سہولتیں رکھی تھیں، ہم نے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اسلام نے طلاق کے معاملے میں بھی سوچنے، رکنے اور رجوع کے مواقع رکھے تھے: سوچ لو، پھر سوچ لو، پھر سوچ لو۔ لیکن جب تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں تو پھر انسان کے لیے ندامت کے سوا کیا رہ جاتا ہے؟ سر پر مٹی ڈالنی پڑتی ہے اور کیا؟
بہرحال اب یہ ہے کہ اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور رہائش کے معاملات بالکل الگ ہوں، یعنی دونوں کا ایک دوسرے تک پہنچنے کا راستہ الگ ہو، معاملات الگ ہوں، تو کسی حد تک ایک ہی عمارت یا گھر کے الگ حصوں میں رہنے کی صورت بن سکتی ہے۔
لیکن بہتر اور زیادہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ عورت کے لیے الگ رہائش کا انتظام کر دیا جائے، جیسے کسی کو کرائے پر الگ گھر یا الگ رہائشی یونٹ بنا کر دیا جاتا ہے، تاکہ وہ بچوں کے ساتھ وہاں رہے اور اس کا خرچہ بچوں کا باپ اٹھائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

