سوال 7666

(منقول)
ایک چھ ماہ کی بچی کا ریپ ہوتا ہے، تو کیا اس کی تقدیر میں پہلے سے یہ موجود تھا کہ وہ یہ تکلیف اٹھائے گی؟
اور اگر ریپسٹ کی تقدیر میں یہ گناہ کرنا لکھا تھا، تو کیا وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میری تقدیر میں یہی لکھا تھا، اس لیے میں نے یہ گناہ کیا؟
سوال: تقدیر اور انسان کے اختیار کے حوالے سے اس مسئلے کو کیسے سمجھا جائے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اہل حق کے نزدیک تقدیر اللہ کے علم کا نام ہے جو اللہ نے اپنا علم لکھوا دیا ناکہ بندہ کو مجبور کیا کہ فلاں فلاں غلط کام کرے.
اللہ نے اختیار دیا بندے کو [الانسان: 3]
اور اس اختیار کے باوجود بندہ نے جو عمل کرنے ,اللہ چونکہ عالم الغیب ہے
[الرعد: 9]
لہذا اللہ نے پہلے ہی اپنے اس علم کو لکھوا دیا,اسی کا نام تقدیر ہے.
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم نے تو عالمانہ انداز میں جواب دے دیا، الحمدللہ
دیکھیں، فرضی سوالات درست نہیں ہوتے۔ یہ ایک فرضی سوال ہے۔ ابھی تک دنیا میں چھ ماہ والا ایسا واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
ایک بات تو یہ ہے، دوسرا اس سوال کو یوں بھی کیا جا سکتا تھا کہ سوال کرنے والا کہتا: “میرے ساتھ ایسا ہو گیا، میری تقدیر میں لکھا تھا۔” ہم کہیں گے: “ہاں جی، تیری تقدیر میں لکھا تھا۔”
جیسے امیر عمرؓ نے ایک چور سے کہا تھا۔ اس نے کہا: “میری تقدیر میں چوری کرنا لکھا تھا۔” امیر عمرؓ نے فرمایا: “تیرا ہاتھ کاٹنا بھی تیری تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔”
اسی طرح ہمارے علاقے میں ایک شخص بے دین ہو گیا، داڑھی کاٹ دی، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ پوچھا گیا: “کیا ہوا؟” اس نے کہا: “میری تقدیر میں لکھا تھا۔” ہمارے ایک ساتھی نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پوچھا: “کیوں مارا؟” اس نے کہا: “اس کی تقدیر میں تھپڑ کھانا بھی لکھا ہوا تھا۔”

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ