سوال 7369
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخِ کرام! ایک بھائی کا سوال ہے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ ورثاء میں پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔
والد مرحوم کے ترکے میں پانچ رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے تین مکانات رقبے اور قیمت کے لحاظ سے بڑے ہیں۔
تین بڑے بھائیوں کا کہنا ہے کہ وہ تین بڑے مکانات اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، جبکہ باقی دو مکانات کرائے پر دے دیے جائیں، کیونکہ چھوٹے دو بھائی پہلے ہی اپنے ذاتی خریدے ہوئے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔
درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
اگر دو مکانات کرائے پر دے دیے جائیں تو کیا ان کا کرایہ تمام ورثاء (پانچ بھائیوں اور دو بہنوں) میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا؟
اگر ترکہ باقاعدہ تقسیم کیے بغیر تین بڑے بھائی تین بڑے مکانات اپنے قبضے میں رکھ لیں، جبکہ بہنیں دلی رضامندی ظاہر کریں لیکن چھوٹے بھائی مجبوری میں رضامند ہوں، تو کیا ایسی تقسیم شرعاً درست ہوگی؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں بنیادی بات تو ہمیں یہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ کسی کے انتقال کے ساتھ ہی اس کا تمام ترکہ تمام شرعی ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن جاتا ہے۔ جب تک شرعی طریقے سے تقسیم نہ ہو کوئی ایک یا چند وارث کسی مخصوص مکان پر اپنا خصوصی حق جو ہے وہ قائم نہیں کر سکتے۔ تو اس بنیادی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کے جو جو سوال ہیں اس کے میں اگر کچھ حصے کر لوں تو پہلے حصے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پانچوں مکان اور ان میں سے دو مکان کرائے پر دیے جاتے ہیں تو ان کا کرایہ تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ برابر برابر نہیں۔ یعنی ہر وارث کو قرآن میں مقرر کردہ حصہ ملے گا۔ اس صورت میں اگر مرحوم کی صرف یہی اولاد وارث ہو۔ والدہ یا دیگر وارث موجود نہ ہوں تو اولاد میں تقسیم کا اصول تو ہمیں معلوم ہے کہ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ تو اس طرح پانچ بیٹے ہیں تو ان کے 10 حصے بن جائیں گے دو بیٹیاں دو حصے تو کل بن گئے 12 حصے۔ تو ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ لیکن یہ واضح رہے کہ اس صورت میں کہ جب فوت ہونے والے کے والدین، بیوہ یا کوئی اور وارث موجود نہ ہو۔ آپ کے سوال میں ایک دوسرا جو حصہ ہے وہ یہ ہے کہ اگر تین بڑے بھائی ترکے کی باقاعدہ تقسیم سے پہلے تین بڑے مکان اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں تو واضح رہے کہ یہ اس وقت تک درست نہیں جب تک تمام بالغ عاقل ورثاء اپنی مکمل خوش دلی اور رضامندی نہ دے دیں۔ گو کہ آپ نے یہ لکھا کہ بہنوں کی دلی رضامندی اور چھوٹے بھائیوں کی مجبوری میں رضامندی۔ تو اس سے تو صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ رضامندی شرعاً معتبر نہیں ہے اور اس اعتبار سے تینوں بڑے بھائیوں کا ان مکانوں پر خصوصی قبضہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں بہنیں ہی شرم کی وجہ سے یا کسی دباؤ کی وجہ سے یا خاندانی مصلحت کی وجہ سے راضی ہو جاتی ہیں۔ ہم نے آج تک کبھی بھائیوں کو بہنوں کے حق میں راضی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا نہ سنا ہے۔ تو جو اصول ہے کتاب و سنت کا اس کی طرف آئیے۔ اور وہ اصول کیا ہے؟ پہلے تمام جائیداد کی قیمت یا تقسیم کا تعین کیا جائے، تمام ورثاء کے شرعی حصے نکالے جائیں پھر اگر سب ورثاء اپنی آزاد مرضی سے آپس میں یہ طے کر لیں کہ فلاں بھائی فلاں مکان لے لے جس کا حصہ کم یا زیادہ بنتا ہو اسے مناسب مالی طور پر معاوضہ دے دیا جائے تو پھر ایسا کرنا جائز ہے۔ لیکن کسی شرعی تقسیم سے پہلے ہی اپنی مرضی سے اگر اس طرح کے حصے بخرے کر لیے جائیں جس میں کوئی جلد بازی ہے یا دباؤ ہے تو یہ بالکل بھی درست نہیں ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ


