سوال 7337
مارکیٹ میں ایک استخارہ کرنے کا طریقہ آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہاتھ میں تسبیح لٹکا کر بیٹھتے ہیں اور اس پر استخارے کی دعا پڑھ کر پھونکتے ہیں اب جس سمت تسبیح ہلے گی وہ ہی استخارے کا جواب ہوگا۔
کیا یہ طریقہ درست ہے؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
باطل ۔ یہ جہالت بھرا عمل ہے۔ جس کا استخارہ سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح استخارہ کا تعلق نہ سونے کے ساتھ ہے اور نہ ہی کسی خواب آنے کے ساتھ. استخارہ اللہ سے مدد طلب کرنا ہے جو کام بہتر ہوگا اللہ اس میں آسانی کردیں گے اور جو بہتر نہیں ہوگا اس سے بچا لیں گے۔
جیسا کہ استخارہ کی دعا کے الفاظ سے بھی واضح ہے۔
(بخاری#6382)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
استخارہ تو اس کو نہیں کہہ سکتے قرعہ کہہ سکتے ہیں اگر قرعہ اندازی کی کوئی صورت ہو جیسے سورہ آل عمران میں ہے اذ يلقون اقلامهم ايهم يكفل مريم قلم کے ذریعے قرعہ اندازی کی گئی۔تفصیل تفسیر ابن کثیر میں ہے۔
اسی طرح حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ وہ زمین پر کچھ لکیریں کھینچتے اور اس سے کچھ نتیجہ اخذ کرتے۔
مولانا عبدالستار محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بخاری شریف کی شرح نصرۃ الباری تحریر فرمائی تھی اس میں بخاری شریف میں جہاں قرعہ اندازی کا بیان ہے وہاں انہوں نے قرعہ کے حوالے سے قرعہ کی کئی قسمیں قران و حدیث کی روشنی میں لکھی ہیں بڑی اچھی تفصیل ہے قابل مطالعہ ہے۔
نبی علیہ الصلوۃ والسلام سفر پر جاتے تو اپنی ازواج کے انتخاب کے لیے قرعہ کے ذریعے انتخاب کرتے کہ کس زوجہ کو ساتھ لے کے جانا ہے۔ اب اس قرعہ کا کیا طریقہ تھا علماء اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام کے لیے بھی سورہ صافات میں فساهم فكان من المدحضين کہ وہ قرعہ اندازی میں شریک ہوئے اور کشتی سے دھکیل دیے گئے اب اس وقت قرعہ اندازی کا کیا طریقہ ہوتا تھا یہ غالبا کہیں نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ محمد نعیم راشد حفظہ اللہ



