سوال 7336
تشہد کی حالت میں انگلی کا ہلانا دعا کرنے کا ایک طریقہ ہے مگر ایک صاحب کا اصرار ہے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ تعالی کا موقف تھا کہ تشہد میں انگلی درود ابراہیمی پڑھنے کے بعد ہلانی ہے کیونکہ اسی وقت دعائیں پڑھی جاتی ہیں جبکہ میرا خیال ہے دعا تو التحیات میں بھی ہے اور درود بھی دعا ہی ہے۔
علماء اس بارے میں رہنمائی کریم خاص کر شیخ زبیر کا کیا موقف تھا؟
جواب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مسئلے کی بنیاد اس روایت پر ہے کہ «كان يدعو بها ويحركها»، یعنی نبی کریم ﷺ انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت دیتے تھے، اور یہ حرکت دعا کے ساتھ مربوط ہے۔
دعا کا آغاز «السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته» سے ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے دعا شروع ہوتی ہے، اور اس کے بعد آنے والے تمام الفاظ بھی دعاؤں پر مشتمل ہیں، حتیٰ کہ «السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تک۔
اسی طرح درودِ ابراہیمی بھی دعا ہی ہے، اور اس کے بعد پڑھی جانے والی مسنون دعائیں بھی دعا میں شامل ہیں۔
لہٰذا «السلام عليك أيها النبي» سے دعا کا آغاز سمجھا جائے گا، اور اسی مقام سے شہادت کی انگلی کی حرکت بھی شروع ہو جائے گی۔
جہاں تک میری معلومات ہیں، حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا موقف بھی یہی تھا کہ انگلی کی حرکت دعا کے آغاز سے ہوگی، اور دعا کا آغاز «السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته» سے ہوتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



