سوال 7528

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخِ کرام! ایک مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ ایک شخص کوئی چیز 30 روپے میں فروخت کرنا چاہتا ہے اور خریدار بھی موجود ہے، لیکن بیچنے والے کو فوری رقم چاہیے جبکہ خریدار تین ماہ کی مہلت چاہتا ہے۔
اب خریدار کی طرف سے ایک تیسرا شخص، جسے انویسٹر کہا جا سکتا ہے، درمیان میں لایا جاتا ہے۔ خریدار انویسٹر سے کہتا ہے کہ:
“آپ یہ چیز 30 روپے میں فوری خرید لیں، پھر مجھے وہی چیز تین ماہ کی ادائیگی پر 35 روپے میں فروخت کر دیں۔”
کیا اس طریقہ کار میں کوئی شرعی مضائقہ ہے؟ قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر تیسرا شخص اس چیز کو خرید لیتا ہے اور اپنی ملکیت میں لے آتا ہے تو پھر وہ اسے آگے جتنی قیمت میں چاہے بیچ دے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔
اب لینے والا تیار ہے تو آپس میں پیمنٹ طے کر لی جائے کہ اتنے مہینے میں ادائیگی ہوگی، اور اتنی اتنی رقم کرکے ادائیگی کی جائے گی۔ البتہ اس پر بعد میں کسی قسم کے اضافی چارجز نہ لگائے جائیں تو ٹھیک ہے۔
کیونکہ اب اس چیز کا مالک تیسرا شخص بن گیا ہے۔ چاہے اس نے کسی وجہ سے وہ چیز خریدی ہو، لیکن مالک وہ بن گیا، لہٰذا اب وہ اسے آگے قسطوں پر دے سکتا ہے۔
بس ضروری یہ ہے کہ ہر بات پہلے سے طے اور واضح کر لی جائے۔ اس صورت میں یہ عمل جائز ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا، اس معاملے میں شرعی حکم اس بات پر موقوف ہے کہ جو تیسرا شخص انویسٹر کہا جا رہا ہے، اس کا اصل کردار کیا ہے؟ کیا وہ صرف رقم فراہم کرے گا یا حقیقی طور پر خرید و فروخت کے اس عمل میں شریک ہوگا؟
جائز شکل یہ ہے کہ بیچنے والا اپنی چیز 30 روپے نقد میں تیسرے شخص کو فروخت کر دے۔ تیسرا شخص وہ چیز خرید کر اپنی کسٹڈی اور قبضے میں لے، اس کے بعد وہی تیسرا شخص اپنی ملکیت میں آنے والی چیز پہلے خریدار کو 35 روپے میں تین ماہ کی ادائیگی پر فروخت کر دے۔
تو اس صورت میں قیمت اور مدتِ ادائیگی دونوں پہلے سے واضح اور متعین ہوں۔ نیز پہلے اور دوسرے خرید و فروخت کے عمل کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ نہ ہو کہ انویسٹر صرف کاغذی طور پر چیز خریدے گا اور لازماً اسی وقت پہلے خریدار کو واپس فروخت کرے گا۔
اس صورت میں دو الگ خرید و فروخت کے عمل ہوئے ہیں، لہٰذا اس میں کوئی شرعی ایشو نہیں ہے۔
لیکن اگر وہ شخص جسے انویسٹر کہا جا رہا ہے، محض 30 روپے دے کر تین ماہ بعد 35 روپے واپس لینے کے لیے درمیان میں شریک ہو رہا ہے، اور چیز کی خرید و فروخت محض ظاہری ہو یا صرف ڈاکومنٹ بیس پر ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔
یہ دراصل 30 روپے کے قرض کے بدلے 35 روپے کی واپسی ہے، یعنی سود کے زمرے میں آئے گا۔
کیونکہ اس صورت میں تیسرے شخص نے حقیقتاً وہ چیز خریدی ہی نہیں، قبضہ ہی نہیں لیا، بلکہ صرف رقم اور وقت کی بنیاد پر ایک مالی سہولت فراہم کی ہے۔ لہٰذا یہ شرعی بیع نہیں ہے بلکہ سود کے زمرے میں آئے گا۔
لہٰذا اصل اعتبار اس بات کا ہے کہ تیسرا شخص واقعی چیز کا مالک بنے، اسے خریدے اور اپنے قبضے میں لے، پھر اپنی ملکیت کی چیز آگے فروخت کرے؛ محض کاغذی خرید و فروخت یا رقم دے کر زیادہ رقم واپس لینا جائز نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ