سوال 7374

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ کیا حال ہے ٹھیک ٹھاک ہیں؟ خیریت سے ہیں؟ شیخ تواتر کے ساتھ یہ احادیث آئی ہیں۔ بخاری میں اور مختلف احادیث کی کتابوں میں جس میں بعض روایات میں ایسے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہے۔ عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔ بعض روایات میں ایسے ہے کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی۔ یعنی پھر وہ تینوں چیزیں بیان کی ہیں۔ لیکن ایک حدیث میں یہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ تین چیزوں میں نحوست ہے۔ عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں۔ تو سیدہ عائشہ نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو دور جہالت کی میں بیان کر رہے تھے کہ دور جہالت میں لوگ تین چیزوں سے نحوست کرتے تھے کہ عورت سے گھر سے اور گھوڑے سے۔ تو یہ جو ان کا آپس میں بظاہر تضاد نظر آ رہا ہے اس میں آپ کیا تطبیق دیں گے؟ ان احادیث کو وضاحت کریں بھائی۔ جزاک اللہ خیرا۔

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں دونوں طرح کی روایات موجود ہیں جیسے کہ آپ نے فرمایا لیکن صحیح بات یہ ہے کہ وہ جو حدیث ہے: ان کانت شؤم اگر نحوست ہوتی
فی المرأۃ ٹھیک ہے
والفرس والدار او کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام تو یہ جو ان والا لفظ ہے نہ یہ فیصلہ کن ہے اور یہ نفی ہی کی جا رہی ہے کہ ان تین میں سب سے زیادہ لوگ عقیدہ رکھتے ہیں نحوست کا اور جب ان تینوں میں نہیں ہے تو پھر کہیں بھی نہیں۔ اگر ہوتی تو ان تین میں ہوتی۔
تو یہ نفی کی طرف اشارہ ہے اسی لیے سیدہ عائشہ کا موقف راجح ہے۔ اور علماء اسی طرف گئے ہیں کہ یہ جو ان والی حدیث ہے یہ فیصلہ کن ہے اور یہ نفی کر رہی ہے دور جاہلیت کی جو کلی طور پہ جو نحوست کا معاملہ تھا اس کی نفی کر رہی ہے۔ کلی طور پہ نفی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تو یہی عقیدہ رکھنا چاہیے۔ تو تطبیق پھر اٹومیٹکلی ہو ہی جاتی ہے ان والی حدیث کے ذریعے سے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ