سوال 7505
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
شیخ کیا یہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں(جیسا کہ PTCL.. یوفون اور جاز وغیرہ) میں نوکری کرنا جائز ہے جو کہ انٹرنیٹ، ٹی وی اور کچھ دوسری غیر شرعی کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اگر ملازمت کا کام جائز ہے، مثلاً نیٹ ورکنگ یا نیٹ انجینئرنگ کی جا رہی ہے، ٹیکنیکل سپورٹ ہے، کسٹمر سروس ہے، اکاؤنٹس یا انتظامی امور ہیں، موبائل انٹرنیٹ کنکشن کی فراہمی ہے، فائبر، ٹاور، سرور یا نیٹ ورک کی دیکھ بھال ہے، تو اس میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ملازم براہِ راست کسی حرام کام کو فروغ دینے یا فراہم کرنے کا ذمہ دار نہ ہو تو ایسی ملازمت جائز ہے۔
کیونکہ جس کمپنی کا بنیادی کام جائز ہے، اس میں بعض غیر شرعی کام ہونے سے پوری ملازمت حرام نہیں ہو جاتی۔
لیکن اگر ملازمت ہے ہی کسی حرام کام سے متعلق، تو وہاں ہم یہ کہیں گے کہ یہ کام جائز نہیں ہوگا، کیونکہ یہ گناہ کے کام میں براہِ راست معاونت ہے:
﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
تو اس اعتبار سے اہلِ علم اور فقہاء ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں جاب کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اور اگر ان کمپنیوں میں کوئی حرام کام ہو رہا ہے تو اس کی حرمت کو صرف اسی حرام کام کی حد تک رکھا جائے گا۔ اس بنیاد پر پورے کام کو حرام کہنا قطعاً نامناسب ہے۔
اگر ہم یہ اصول بنا لیں تو پھر بجلی بھی، موبائل بھی، گاڑی، کمپیوٹر سبھی حرام ہوں گے، کیونکہ یہ سب ذرائع ہیں غلط کاموں اور حرام کاموں کے حوالے سے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ




