سوال 7438
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں اہل علم اس سوال کے جواب میں کہ ٹریفک پولیس میں کام کرنے والے شخص کی ڈیوٹی ہے کہ شام تک بیس چلان کرنے ہیں اور وہ کرتا ہے اب کیا اس کی روزی حرام ہے جو اسے ماہانہ تنخواہ کی صورت میں ملتی ہے.
ایک شخص کہتا ہے پاکستان کے تمام ادارے حرام کماتے حرام کھاتے ہیں اس وقت کوئی بھی حلال نہیں کھا رہا اور علماء بھی حرام کھا رہے کہ وقت کی حکومت کے خلاف باہر نکل کر آواز بلند نہیں کرتے لوگ مر رہے ہیں لیکن علماء خاموش ہیں
سوال لمبا ہوگیا برائے اس کا جواب دیجیے گا۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، آج کل ایسے جذباتی فتوے بازی کے رجحانات بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ انتہا پسندی بھی بڑھتی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو بار بار جواب دینا مناسب نہیں، خواہ وہ واٹس ایپ پر ہوں، ٹیلی فون پر ہوں یا براہِ راست رابطہ کریں۔ بہتر یہ ہے کہ انسان ایسے بے علم اور جذباتی لوگوں سے اپنا دامن بچا کر رکھے۔
البتہ اگر کوئی شخص خود زیادتی کرتا ہے، کسی پر ناجائز کیس کرتا ہے، ناحق پرچہ کاٹتا ہے یا بلا وجہ چالان کرتا ہے، تو حکم بھی اسی زیادتی کی بقدر ہوگا۔ جتنا اس نے ظلم، زیادتی یا ناجائز کام کیا ہے، اسی حد تک اس پر حرام یا ظلم کا حکم لگے گا۔ پورے ادارے، تمام اہلکاروں یا مجموعی طور پر سب کی کمائی کو حرام قرار دینا درست نہیں۔
اور ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، جب ان کا خود جائزہ لیا جائے تو وہ بھی کئی معاملات میں اسی درجے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ کون سے دودھ سے دھلے ہوئے ہوتے ہیں، بھائی!
اسی طرح علماء کا معاملہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جس شخص کی جتنی استطاعت ہے، وہ اتنے ہی شرعاً مکلف ہیں۔ ہر شخص سے اس کی استطاعت کے مطابق ہی مطالبہ ہوگا۔ لہٰذا جس عالم کی آواز جہاں تک پہنچ سکتی ہے، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اتنا ہی جواب دہ ہے۔
البتہ جو شخص جان بوجھ کر ظلم، زیادتی یا دیگر ناجائز معاملات میں ساتھ دیتا ہے، وہ اپنی اس شمولیت کی بقدر مجرم ہوگا۔
اور جو لوگ بے بس ہیں، لاچار ہیں، یا جن کی آواز پارلیمنٹ اور مقتدر حلقوں تک نہیں پہنچتی، اگر وہ اپنے دائرہ استطاعت میں، مثلاً اپنے جمعہ کے خطبے یا محدود پلیٹ فارم کے ذریعے بات کرتے ہیں، تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق ہی مکلف اور جواب دہ ہوں گے۔
لہٰذا ہر کس و ناکس کو فتوے بازی کا حق نہیں کہ وہ اٹھے اور لوگوں پر فتوے لگانا شروع کر دے۔ پہلے اپنے علم، اپنی ذمہ داری اور اپنی حدود کو سمجھے۔ ورنہ اپنے استنجا کو درست کرنا بھی اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ محترم
تقریباً اسی فیصد ملازمین تو عوام کے ساتھ صریحاً زیادتی کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
جواب: جہاں تک زیادتی کا معاملہ ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو سب کو سلامت رکھے۔ وہ ایک جرم اور ایک گناہ ہے، ایک معصیت ہے، ایک سیئہ ہے۔
وہ اس اعتبار سے گنہگار ہیں اور میں اور آپ شاید کسی اور اعتبار سے ہوں۔
فرشتہ تو یہاں کوئی نہیں ہے۔ یہی ہے کہ: اتقوا الظلم فانه ظلمات يوم القيامة۔ انصر اخاک ظالما او مظلوما۔
وعظ و نصیحت ہونی چاہیے، تنبیہ بلیغ ہونی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

