سوال 7318

السلام علیکم!
ادھار دیے ہوئے پیسے واپس لینے کے لیے جو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں کیا ان کا بھی گناہ ہو گا؟

جواب

الجواب بعون الوهاب
اصل اصول یہ ہے کہ جھوٹ بولنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے اگرچہ مقصد اپنا حق حاصل کرنا ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
[سورۃ التوبہ 119]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة۔۔۔۔ وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار
بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔
[صحیح البخاری: 6094]
اگر مقروض صاحب استطاعت ہونے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو وہ ظالم اور گناہگار ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مطل الغني ظلم
مالدار شخص کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
[صحیح البخاری: 2400]
لہٰذا محض اپنا قرض وصول کرنے کے لیے صریح جھوٹ بولنا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے کیونکہ مسلمان کو اپنے حق کے حصول میں بھی ناجائز ذرائع اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
البتہ اگر اپنے حق کے حصول کے لیے توریہ یا تعریض اختیار کی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ توریہ یہ ہے کہ انسان ایسا لفظ بولے جس کے دو معنی ہوں اور وہ اس میں سے ایک معنی کی نیت کرے اگرچہ سننے والا اس سے دوسرا معنی سمجھ لے۔ اس صورت میں حقیقت کے اعتبار سے جھوٹ لازم نہیں آتا۔
اس کی دلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ جب ظالم بادشاہ نے سیدہ سارہ کے متعلق پوچھا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے انہیں اپنی بہن بتایا۔ بعد میں سیدہ سارہ سے فرمایا
وإنك أختي في كتاب الله
تم اللہ کی کتاب کے مطابق میری بہن ہو۔
[صحیح البخاری: 2217، سنن أبي داود: 2212]
یعنی تم میری نسبی بہن نہیں بلکہ دینی بہن ہو۔
اگر سیدنا ابراہیم علیہ السلام یہ کہہ دیتے کہ سیدہ سارہ میری بیوی ہیں تو اس بات کا قوی اندیشہ تھا کہ وہ ظالم بادشاہ انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے جدا کرنے آپ کو قتل کرنے یا کسی اور طریقے سے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا تاکہ سیدہ سارہ کو اپنے قبضے میں لے سکے۔ اسی شر سے بچنے کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے توریہ فرمایا ۔
اسی طرح حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے موقف روایت ہے
قال عمران بن حصين رضي الله عنه وهو ينشد شعرا إن في المعاريض لمندوحة عن الكذب
سیدنا عمران بن حصین رضي الله عنه نے شعر پڑھتے ہوئے فرمایا
بے شک تعریض میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش موجود ہے۔
الأدب المفرد للإمام البخاري رقم 857
ابن ابی شیبہ رقم 26620
والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم سفیان بن امان اللہ حفظہ اللہ

اول تو قرض اتنا دیں، جتنی آپ کی استطاعت ہے، نیز اگر تو انتہائی مجبوری ہے، ان پیسوں کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، تو صرف پیسے لینے کی حد تک جھوٹ بولنے کے گنجائش ہے،

فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ آیت نمبر : 173]
نیز معمولی قرض کیلئے جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ