سوال 7084
السلام علیکم و رحمۃ اللہ شیخ محترم کیا یونیورسٹی کے ہاسٹل میں لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے رہ سکتی ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نے اپنی محدود سی معلومات اور مطالعے کی روشنی میں اہل علم کے جو فتاویٰ دیکھے ہیں، ان کا لبِ لباب یہ ہے کہ مدارس، کالجز یا یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز میں لڑکیوں کا رہنا بالکل درست ہے، بشرطیکہ وہاں کا ماحول مکمل طور پر محفوظ ہو۔ اگر وہاں تعلیمِ نافع کے حصول کے لیے تمام ضروری انتظامات موجود ہوں، فتنوں کا ڈر نہ ہو، اور لڑکیوں کے ایمان، عزت اور دین و دنیا کی حفاظت کا پورا یقین ہو۔ اگر واقعی وہاں کسی قسم کے اختلاط یا خطرے کا امکان نہ ہو اور نظم و ضبط مثالی ہو، تو پھر شرعی طور پر اس کی گنجائش موجود ہے اور علماء اس کی اجازت دیتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کا مختصر جواب یہ یے کہ اس میں بیان کیے گئے سارے دلائل بغیر محرم کے سفر کی ممانعت پر ہیں ناکہ کسی بیرون شہر سکونت اختیار کرنے پر۔ ایسا تو کوئی حکم نہیں شریعت میں کہ عورت کے کسی دوسری محفوظ جگہ رہنے کے لیے بھی محرم کی شرط ہو۔
البتہ عورتوں کے اپنے گھر والوں کے بغیر بیرون شہر رہنے میں کئی نقائص ہیں خصوصا آج کے پرفتن موبائل کے دور میں ان موجودہ حالات کے پیش نظر بچیوں کو ہوسٹلوں میں بھیجنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: اس کی کوئی ایک دلیل بھی سینڈ کر دیں شکریہ ہم آپ کے مشکور ہوں گے۔
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کبار اہل علم کے فتاویٰ جات ہی اس پر موجود ہیں۔ اور انہوں نے جو ڈسکس کیا ہے اس میں اس بات کو موضوع بحث بنایا ہے کہ حدیث کی روح سے سفر پر پابندی ہے بغیر محرم کے۔ البتہ اگر سفر محرم کے ساتھ ہو جائے اور کسی جگہ جہاں فتنے کا ڈر نہ ہو، تعلیم اور تعلم کے لیے یا کسی اور وجہ سے رکنا پڑ جائے اور وہاں کا سارا ماحول خواتین پر مبنی ہو اور کوئی خطرہ نہ ہو نہ ایمان کو نہ عزت کو۔ کوئی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ تو اس سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ روکنے کی دلیل چاہیے۔ کوئی دلیل نہیں۔ سفر بغیر محرم کے نہیں ہو گا اس کی دلیل موجود ہے۔ تو یہ ان کی بحث کا خلاصہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! یہ جتنے بھی ہاسٹل یا دینی مدارس ہیں، ان پر مکمل کنٹرول ناظمین کا ہوتا ہے، اور ناظم ہی ان کے معاملات دیکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری بھی ڈیوٹی ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ ناظمین کے ساتھ عورتیں تبلیغی سفر پر بھی جاتی ہیں اور انہیں اپنا محرم سمجھتی ہیں۔ جیسے حج اور عمرے کے سفر میں بعض اوقات کسی غیر محرم شخص کو اپنا محرم بنا لیا جاتا ہے، اسی طرح دروس کے ناظمین کو بھی یہ عورتیں اپنا محرم بنا لیتی ہیں۔
تقریباً 90 فیصد واقعات اسی نوعیت کے ہیں اور یہ عورتیں انہی کے ساتھ رہتی ہیں، جبکہ ان دروس کا پورا نظام بھی انہی مردوں کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ہاسٹلوں کے اوپر بھی مرد نگران اور ناظم مقرر ہوتے ہیں۔
لہٰذا ان تمام صورتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سارا خیال ہونا چاہیے۔ اللہ سب کا پردہ رکھے، شیخ! لیکن جو بات ہے، وہ بتانی ہوتی ہے، کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اب اگر اس بات کو بگاڑ دیں تو لوگ انگلی پکڑانے پر ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔ یہ تو معاشرے میں ہوتا ہی ہے۔
جو بگاڑ ہے، وہ اپنی جگہ ہے، مگر جو بات جتنی ہے، اتنی ہی بتائی جائے گی۔ اسی لیے جو بات تھی، وہ ہم نے آپ کو بتا دی۔ اب حقیقت میں کیا ہو رہا ہے، اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں۔
غیر محرم کو محرم بنا لینا، اس کے ساتھ سفر اختیار کرنا اور اسے محرم سمجھنا، یہ جہالت کی انتہا ہے اور اللہ کے ساتھ، نعوذ باللہ، دھوکہ بازی ہے۔
تو بس انتظار کریں، ہر کوئی اپنا معاملہ دیکھے۔ ہمیں حکم یہ ہے کہ پردہ رکھیں اور سمجھانے کی کوشش کریں۔ بس یہی ہو سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




