سوال 7499
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ حالت بیماری میں کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایسی کوئی بات ہمارے علم میں نہیں ھے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا خلاف سنت ھے خلاف شریعت ھے لہذا بچیں۔ شکریہ
سائل: اللّٰہ اکبر شیخ محترم میرے خیال سے کچھ زیادہ سختی کر گئے ہیں آپ۔
سائل: یہ حدیث دیکھیں:
ومن عجز عن ذلك وصلى على الكرسي فلا حرج في ذلك، لقول الله سبحانه: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾، وقول النبي ﷺ: «إذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم» متفق على صحته.
مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لسماحة الشيخ عبد العزيز بن باز، 12/245–246.
سائل: تکیے پر نماز پڑھنا جائز ہے باحوالہ سنن الکبری للبیھقی حدیث 3718
جواب:
تکیے پر سجدہ کرنے کی ممانعت کے متعلق مروی روایت اور اس کے ،شواہد وطرق سب ضعیف ہیں
ہم یہاں صرف مسند أبی یعلی کے محقق کا کلام نقل کریں گے اور اس کے بعد کچھ آثار بمع حکم اور چند باتیں بھی ۔
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺮﺑﻴﻊ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻔﺺ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء، ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻗﺎﻝ: ﻋﺎﺩ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺮﻳﻀﺎ ﻭﺃﻧﺎ ﻣﻌﻪ ﻓﺮﺁﻩ ﻳﺼﻠﻲ ﻭﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﻓﻨﻬﺎﻩ، ﻭﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﺳﺘﻄﻌﺖ ﺃﻥ ﺗﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ اﻷﺭﺽ ﻓﺎﺳﺠﺪ، ﻭﺇﻻ ﻓﺄﻭﻣﺊ ﺇﻳﻤﺎء، ﻭاﺟﻌﻞ اﻟﺴﺠﻮﺩ ﺃﺧﻔﺾ ﻣﻦ اﻟﺮﻛﻮﻉ
مسند أبی یعلی :(1811) سندہ ضعیف جدا
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں
محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلی سیئ الحفظ ہے
حفص بن سلیمان القاری روایت حدیث میں بالاتفاق ضعیف ہے
مسند أبی یعلی کے محقق شیخ سعید بن محمد السناری کی تعلیق ملاحظہ فرمائیں:
وقد تلوَّن فيه حفص بن سليمان، فعاد ورواه عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن ابن عمر به مرفوعًا نحو سياق المؤلف … ، هكذا أخرجه الطبراني في “الكبير” [١٢/ ١٣٠٨٢]، وقد اضطرب الهيثمى في الكلام على هذا الطريق في “المجمع” [٢/ ٣٤٧]، لكن للحديث طريق آخر يرويه أبو بكر الحنفى عن الثورى عن أبى الزبير عن جابر به نحو سياقه هنا. وفى أوله: (أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عاد مريضًا فرآه يصلى على وسادة، فأخذها فرمى بها، فأخذ عودًا ليصلى عليه فرمى به … وقال … ) ثم ذكره بنحوه …
أخرجه البيهقى في “سننه” [٣٤٨٤]، وفى “المعرفة” [١١٦٠]، وفى “سننه الصغير” [٤٥٦]، والبزار [٥٦٨]، وأبو نعيم في “الحلية” [٧/ ٩٢]، من طرق عن أبى بكر الحنفى عن الثورى به …
قلتُ: قال البيهقى في “سننه الكبرى”: “هذا الحديث يُعد في أفراد أبى بكر الحنفى عن الثورى … ” ونحوه قال في “المعرفة” وزاد: “وقد تابعه عبد الوهاب بن عطاء عن الثورى”.
قلتُ: وهذه المتابعة: أخرجها هو في سننه “الكبرى” [٣٤٨٥]، والبزار في “مسنده” كما في “التلخيص” [١/ ٢٢٦].
وقد سئل أبو حاتم عن هذا الحديث كما في “العلل” [رقم ٣٠٧]، فقال: “هذا خطأ، إنما هو عن جابر قوله – يعنى موقوف – إنه دخل على مريض، فقيل له: فإن أبا أسامة قد روى عن الثورى عن هذا الحديث مرفوعًا، فقال: ليس بشئ، هو موقوف”.
قلتُ: وتعقبه الحافظ في “التلخيص” [١/ ٢٢٧]، قائلًا: “قلتُ: فاجتمع ثلاثة: أبو أسامة وأبو بكر الحنفى وعبد الوهاب”.
كله خطأ، وأن المحفوظ فيه هو الموقوف.
ودقائق علل الحديث مسلمة إلى هذا الإمام بلا كلام، ولم يخالفه أحد من القدماء من أرباب هذا الشأن فيما أعلم، فالقول قوله إن شاء الله.
وأبو حاتم وأبو زرعة وأحمد وابن المدينى وابن معين وقبلهم القطان وشعبة وأضراب هؤلاء: كانت أصول النقلة في أيديهم، يطَّلعون عليها، وينقلون منها، وينتخبون ما شاؤوا، ويتنكبون عما شاؤوا، فظهور الخطأ في تلك الأصول عندهم كان واضحًا جليّا، لا يحتاج التدليل عليه إلى مزيد برهان، بل كان يكفى أحدهم أن يقول: “هذا خطأ” أو “هذا وهْم” أو “هذا ليس من حديث هذا” أو “هذا قد شُبِّه له، والصواب كذا … “.
ونحو تلك العبارات التى نحتاج نحن لتقويمها مزيدًا من البحث والاستقراء حتى ننهض ببعض ما كان ينهض به بعض هؤلاء فقط، والكلام هنا يطول جدًّا. والتسليم لهؤلاء في مثل هذا المقام هو من إعطاء القوس باريها، وليس تقليدًا في شئ. فانتبه أيها الذكى! وللحديث شواهد أخر لا يصح منها شئ قط، وأكثرها تالفة الأسانيد.
وأقواها هو حديث ابن عمر عند الطبراني في “الأوسط” [٧/ قم ٧٠٨٩]، نحو سياق المؤلف، وظاهر إسناده الاستقامة، بل جوده الإمام في “الصحيحة” [١/ ٥٧٧١]، لكنه معلول بالوقف كما تراه عند البيهقى في “سننه” [٣٤٨٦، ٣٤٨٧]، وكذا عند أبى عوانة [٢/ ٣٣٨]، والله المستعان
مسند أبی یعلی :3/ 307 ،308(1811)
فائدہ:
(1) میں طیبی کہتا ہوں کہ حفص بن سلیمان القاری قراءت میں اسی طرح بالاتفاق ثقہ ،حجہ ہیں جس طرح روایت حدیث میں بالاتفاق ضعیف ہیں۔
(2) سفیان ثوری جیسے کبار ائمہ جو نادر ہی تدلیس کرتے ہیں ان کی ہر عن سے روایت کو ضعیف کہنا محل نظر ہے یہ ہم نے صرف فائدہ کے طور پر لکھ دیا ہے۔
(3)ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ اﻟﺜﻘﺔ ﻋﻦ ﻳﻮﻧﺲ، ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ، ﻋﻦ ﺃﻣﻪ ﻗﺎﻟﺖ: ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ ﺯﻭﺝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﻣﻦ ﺃﺩﻡ ﻣﻦ ﺭﻣﺪ
مسند السافعي:(244) سنده ضعيف لأجل حسن البصري وهو مدلس وعنعن
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ، ﺃﻧﺎ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ، ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ، ﻋﻦ ﺃﻣﻪ، ﺃﻧﻬﺎ ﺭﺃﺕ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ ﺗﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ ﺃﺩﻡ
الجعديات :(3189) سنده ضعيف
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺯاﻕ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﻌﻤﺮ، ﻋﻦ ﻗﺘﺎﺩﺓ، ﻋﻦ ﺃﻡ اﻟﺤﺴﻦ، ﻗﺎﻟﺖ: «ﺭﺃﻳﺖ ﺃﻡ ﺳﻠﻤﺔ ﺯﻭﺝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻣﺮﻓﻘﺔ ﻣﻦ ﺭﻣﺪ ﻛﺎﻥ ﺑﻬﺎ
الأوسط لابن المنذر :(2313) سنده ضعيف و(2314) سنده ضعيف و(2315) سنده ضعيف
(4)ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺃﻣﻴﺔ (هو ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺳﺎﻟﻢ الطرسوسي ،اﻟﺨﺰاﻋﻲ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ( هو ابن عبد الله )ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ، ﻭﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ، ﻗﺎﻻ: ﺛﻨﺎ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ(هو ابن ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﻘﺮﺷﻲ اﻟﻌﺪﻭﻱ اﻟﻤﺪﻧﻲ) ﻗﺎﻝ، ﻋﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﺣ ﻭﺣﺪﺛﻨﺎ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻷﻧﻄﺎﻛﻲ اﻟﺨﻔﺎﻑ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ اﻟﻬﻴﺜﻢ ﺑﻦ ﺟﻤﻴﻞ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻋﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ (هو ابن ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﻘﺮﺷﻲ اﻟﻌﺪﻭﻱ اﻟﻤﺪﻧﻲ )ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻠﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺣﻔﺺ ﺑﻦ ﻋﺎﺻﻢ ﻧﻌﻮﺩﻩ ﻓﻲ ﺷﻜﻮﻯ ﻗﺎﻝ: ﻓﺤﺪﺛﻨﺎ، ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻲ ﻋﻤﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ: ﻓﻮﺟﺪﻧﻲ ﻗﺪ ﻛﺴﺮﺕ ﻟﻲ ﻧﻤﺮﻗﺔ – ﻳﻌﻨﻲ اﻟﻮﺳﺎﺩﺓ – ﻗﺎﻝ: ﻭﺑﺴﻄﺖ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺧﻤﺮﺓ، ﻗﺎﻝ: ﻓﺄﻧﺎ ﺃﺳﺠﺪ ﻋﻠﻴﻬﺎ، ﻗﺎﻝ: ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻲ: ﻳﺎ اﺑﻦ ﺃﺧﻲ، ﻻ ﺗﺼﻨﻊ ﻫﺬا ﺗﻨﺎﻭﻝ اﻷﺭﺽ ﺑﻮﺟﻬﻚ، ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﺗﻘﺪﺭﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﻓﺄﻭﻣﺊ ﺑﺮﺃﺳﻚ ﺇﻳﻤﺎء
صحیح أبي عوانه:(2394)طبع الجامعة الإسلامية مدينة المنورة سنده حسن لذاته لأجل أبو أمية الطرسوسي هو صدوق حسن الحديث ربما يخطئ
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء، ﻋﺎﺩ اﺑﻦ ﺻﻔﻮاﻥ ﻓﻮﺟﺪﻩ ﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ، ﻓﻨﻬﺎﻩ، ﻭﻗﺎﻝ: ﺃﻭﻣﺊ ﺇﻳﻤﺎء
مصنف ابن ابی شیبہ :(2807)سنده صحيح
عبد الرزاق ﻋﻦ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺞ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻞ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻰ ﺻﻔﻮاﻥ اﻟﻄﻮﻳﻞ ﻭﻫﻮ ﻳﺼﻠﻲ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ، ﻓﻨﻬﺎﻩ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﻋﻠﻰ ﺣﺼﻰ ﺃﻭ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ، ﻭﺃﻣﺮﻩ ﺑﺎﻹﻳﻤﺎء
مصنف عبد الرزاق:(4137) سنده صحيح
عبد الرزاق ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺩﻳﻨﺎﺭ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻞ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻰ اﺑﻦ ﺻﻔﻮاﻥ اﻟﻄﻮﻳﻞ، ﻓﻮﺟﺪﻩ ﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ، ﻓﻨﻬﺎﻩ ﻭﻗﺎﻝ: ﺃﻭﻣﺊ ﻭاﺟﻌﻞ اﻟﺴﺠﻮﺩ ﺃﺧﻔﺺ ﻣﻦ اﻟﺮﻛﻮﻉ
مصنف عبد الرزاق :(4138)سنده صحيح
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺯاﻕ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺩﻳﻨﺎﺭ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء، ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻞ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻋﻠﻰ اﺑﻦ ﺻﻔﻮاﻥ ﺑﻦ اﻟﻄﻮﻳﻞ، ﻓﻮﺟﺪﻩ ﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻭﺳﺎﺩﺓ، ﻓﻨﻬﺎﻩ، ﻭﻗﺎﻝ: ﺃﻭﻣﺊ، ﻭاﺟﻌﻞ اﻟﺴﺠﻮﺩ ﺃﺧﻔﺾ ﻣﻦ اﻟﺮﻛﻮﻉ
الاوسط لابن المنذر :(2311)سنده صحيح
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ( هو الدبري)، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺯاﻕ، ﻋﻦ اﻟﺜﻮﺭﻱ، ﻋﻦ ﺟﺒﻠﺔ ﺑﻦ ﺳﺤﻴﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ: ” ﻳﺴﺄﻝ ﺃﻳﺼﻠﻲ اﻟﺮﺟﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻌﻮﺩ ﻭﻫﻮ ﻣﺮﻳﺾ؟، ﻓﻘﺎﻝ: ﻻ ﺁﻣﺮﻛﻢ ﺃﻥ ﺗﺘﺨﺬﻭا ﻣﻦ ﺩﻭﻧﻪ ﺃﻭﺛﺎﻧﺎ، ﻣﻦ اﺳﺘﻄﺎﻉ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻓﻠﻴﺼﻞ ﻗﺎﺋﻤﺎ، ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻄﻊ ﻓﺠﺎﻟﺴﺎ، ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﺘﻄﻊ ﻓﻤﻀﻄﺠﻌﺎ ﻳﻮﻣﻲ ﺇﻳﻤﺎء
الأوسط لابن المنذر (2310) سنده صحيح اور دیکھیے مصنف عبد الرزاق :(4139) سنده صحيح
اپنے شیخ جبلہ بن سحیم کی خود امام سفیان ثوری نے توثیق کی ہے
امام عبدالرزاق مدلس نہیں تھے اور امام سفیان ثوری کی تدلیس نادر تھی جو مضر نہیں الا کہ کہیں ان کی تدلیس کے ثبوت پر قرینہ مل جائے ہاں جو روات اغلباء ضعفاء ومجاہیل سے تدلیس کرتے تھے ان کی ہر عن والی روایت ضعیف قرار پائے گی
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ اﻟﺜﻘﻔﻲ، ﻋﻦ ﺃﻳﻮﺏ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: اﻟﺴﺠﻮﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﻮﺳﺎﺩﺓ ﻣﺤﺪﺙ
مصنف ابن ابی شیبہ:(2808) سنده صحيح
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ اﺑﻦ ﻓﻀﻴﻞ، ﻋﻦ ﺩاﻭﺩ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﻨﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺮﺏ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻷﺳﻮﺩ، ﻗﺎﻝ: اﺷﺘﻜﻰ ﺃﺑﻮ اﻷﺳﻮﺩ اﻟﻔﺎﻟﺞ، ﻓﻜﺎﻥ ﻻ ﻳﺴﺠﺪ ﺇﻻ ﻣﺎ ﺭﻓﻌﻨﺎ ﻟﻪ ﻣﺮﻓﻘﺔ ﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻴﻬﺎ، ﻓﺴﺄﻟﻨﺎ ﻋﻦ ﺫﻟﻚ ﻓﺄﺭﺳﻠﻨﺎ ﺇﻟﻰ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻥ اﺳﺘﻄﺎﻉ ﺃﻥ ﻳﺴﺠﺪ ﻋﻠﻰ اﻷﺭﺽ، ﻭﺇﻻ ﻓﻴﻮﻣﺊ ﺇﻳﻤﺎء
مصنف ابن ابی شیبہ :(2809)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﻧﺎ ﻋﺒﺪﺓ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ، ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﺳﻴﺮﻳﻦ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺃﻧﻪ ﺳﺠﺪ ﻋﻠﻰ ﻣﺮﻓﻘﺔ
مصنف ابن ابی شیبہ :(2804)
اس مسئلہ میں ایک جماعت جواز کی طرف گئ ہے دیکھیے الأوسط لابن المنذر ۔
(5) وہ آثار صحابہ جو امور غیبیہ ،فضائل وجزاوسزا سے تعلق رکھتے ہیں یا وہ تفاسیر صحابہ جو متفقہ ہیں ان کے بارے شروط صحت کے اصول وہی ہیں جو مرفوع روایت کے بارے ہیں اسی طرح جو احکام وعقائد کے باب سے ہوں۔
باقی جو آثار مختلف ہوں یا زھد وورع وآداب وسیر کے باب سے ہوں ان میں بے جا سختی نہیں کرنی چاہیے ان کے بارے کبار ائمہ نے نرمی رکھی ہے
والله أعلم بالصواب
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
یہاں پر موجود اہل علم وفضل سے گزارش ہے کہ
کسی بھی مسئلہ کا جواب دینے سے پہلے اس کے متعلق اچھی طرح مطالعہ وتحقیق کر لیا کریں اور ساتھ میں کبار علماء ومشایخ کے فتاوی کا مطالعہ بھی کیا کریں پھر
ادلہ وقرائن کی روشنی میں جو زیر بحث مسئلہ میں راجح موقف ہے اس کو بیان کر دیا کریں۔
سلف صالحین اول تو خود جواب نہیں دیتے تھے بلکہ دوسروں یعنی اپنے سے زیادہ علم وفضل والے مشایخ کی طرف سوال لوٹا دیتے تھے یا عاجزی وانکساری اور آخرت کے دن کڑا حساب ہونے سے ڈرنے کے سبب دوسروں کی طرف سائل کو بھیج دیتے تھے ۔
دوسری بات جس مسئلہ کے بارے میں پوری طرح علم نہیں رکھتے تھے تو سکوت کرتے یا لا أدري کہہ دیتے
اور یہ صورت بھی ملتی ہے کہ خوب سوچ و بچار اور غور وفکر کرنے کے بعد جواب ملتا تو جواب دے دیتے تھے ۔
اس نوعیت کے آثار میں نے حافظ ابن رجب کے رسالہ کی تخریج میں دیکھے اور ان کا حکم لکھا تھا ۔
یہ رسالہ دکتور سعید مجتبیٰ سعیدی رحمة الله عليه کے ترجمہ سے چھپا ہوا ہے۔
اس لئے جواب دینے سے پہلے دلائل وتحقیق و فتاوی،اور اس کے آداب پر گہری نظر ہونا ضروری ہے ۔
مختصر یہ کہ استطاعت ہوتے ہوئے سجدہ زمین پر ہی کریں اور جہاں استطاعت نہیں ہے وہاں بندہ شریعت کے حکم کا مکلف و پابند نہیں ہے ۔
وہاں وہ جس قدر استطاعت اور جس صورت کو اختیار کرنا آسان سمجھتا ہے کر لے
رہا مسئلہ کرسی کا تو شدید ضرورت میں نماز با جماعت پڑھنے کے لئے اس کا استعمال اس طرح سے ہو کہ بالکل صف کے آخر پر کرسی رکھی جائے بصورت دیگر نمازی کم ہوں تو جس طرح عزت شرعی کے سبب کرسی پر نماز ہو جائے گی اسی طرح صف ٹوٹنا اس صورت شمار نہیں ہو گا کہ یہ استثنائی صورت بن جائے گی ۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! صحیح بخاری کی حدیث نمبر 712 ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام اتنے بیمار ہوئے کہ چلنا تو دور کی بات ہے، آپ کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کندھوں کا سہارا لے کر آپ مسجد تشریف لائے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیریں بنا رہے تھے۔
لیکن اتنی تکلیف کے باوجود اللہ کے نبی علیہ السلام نے مسجد میں کرسی پر نماز نہیں پڑھی۔ اللہ کے نبی علیہ السلام نے کرسی پر نماز نہیں پڑھی۔
ایک روایت سنن نسائی میں بھی ہے، شیخ محترم! حدیث نمبر 93۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کرسی پر بیٹھ کر کیا ہے، لیکن نماز کرسی پر نہیں پڑھی۔
جو کام اللہ کے نبی علیہ السلام نے نہیں کیا، جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہیں کیا، ہمیں اجازت کس نے دے دی ہے؟
یہ سارے تقریباً 90 فیصد لوگ صحیح ہوتے ہیں، پٹھے وڈھتے ہیں، ریڑیاں چلاتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، لیکن مسجد میں آ کر کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں مولوی نے اجازت دی ہے۔
اور آپ سر جی! میرے ساتھ کوئی چار دن سفر کر لیں، ان شاء اللہ میں آپ کو ثابت کر دوں گا کہ یہ سارے لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں، اور ان شاء اللہ یہ پڑھیں گے بھی۔
لیکن ایسے بے جا فتوے نہ دیا کریں۔ قیامت والے دن آپ سے پوچھا جائے گا۔
جواب: بارك الله فيكم
بلاشبہ ایسا ہی ہے
آپ سمجھ کر پڑھ لیں تو سمجھ آ جائے گی
یہ احادیث مبارکہ میرے اور دیگر مشایخ کے علم میں ہیں ۔
میں بذات خود ایسے مریضوں کو جانتا ہوں جو کرسی کے بغیر نماز ادا نہیں کر سکتے ہیں
جیسے مفلوج شخص
ڈسک پلے کا مریض ۔
گھٹنوں کی شدید تکلیف کا مریض کہ بیٹھ کر گھٹنے کلوز نہیں کر سکتا ہے اور بیٹھ جائے تو شدید درد ہوتا ہے۔
ہم نے تو لکھا تھا کہ استطاعت ہوتے ہوئے سجدہ زمین پر ہی کریں اور جہاں استطاعت نہیں ہے وہاں بندہ شریعت کے حکم کا مکلف نہیں ہے۔
رب العالمین نے قرآن کریم میں روزہ کے مسئلہ میں ارشاد فرمایا:
فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۔ البقرہ:(184)
رب العالمین کے اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوا کہ خود رب العالمین نے بندے کو رخصت واسانی سے نوازا ہے
اور رب العالمین کے اس ارشاد مبارک
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
پر غور کریں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
المائدہ:(6)
تنگی میں نہ ڈالنے کی وجہ سے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی کے ساتھ مکمل طہارت ہی کے لیے الله تعالى نے تیمم کا حکم نازل فرمایا ہے، تاکہ تم پر نعمت مکمل ہو اور تم شکر ادا کرو۔
ایسے ہی قصر نماز کا مسئلہ ہے ،مقیم اور مسافر کے لئے موزوں،جرابوں پر مسح کرنے کا مسئلہ ہے ۔
بیمار زیادہ ہے اور غسل و وضو کی استطاعت نہیں تو تیمم کی اجازت و گنجائش موجود ہے۔
حاملہ،مرضعہ کو روزہ چھوٹنے کی رخصت ہے گو بعد میں قضا دے گی ۔
تو جہاں شریعت نے نرمی رکھی ہے وہاں نرمی کریں گے
دین اسلام میں تنگ نظری،شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے مگر جہاں خود شریعت نے سختی بتائی اور کی ہو۔
رب العالمین کے فرمان فاتقوا الله مااستطعتم کی روشنی پر بندہ مومن پر اس قدر عمل کرنا ہی فرض ہے جس کی اس میں استطاعت ہے اور جتنی اس میں طاقت ہے ۔
یہ ایک عظیم اصول ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
الســـلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کرسی پہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا جو آج کل عام رواج چل نکلا ہے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو لوگ کھڑے ہو کر یا زمین پہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہو ان کو کرسی چھوڑنے کی ترغیب دینی چاہیے لیکن مجبور لوگوں کے لیے اور خصوصا آج کل جوڑوں کے درد کے مریض جن کے گھٹنوں کی پرابلم ہے اور وہ زمین پہ نہیں بیٹھ سکتے ان کے لیے گنجائش ہے اس کو بدعت کہنا درست نہیں ہے۔
میں نے خود ایسے مریض دیکھے ہیں کہ جو دیکھنے میں بالکل تندرست لگتے ہیں لیکن مجبور ہیں۔
مجھے ایک ایسے مریض سے ملنے کا اتفاق ہوا جو سائیکل چلا سکتا ہے لیکن پیدل نہیں چل سکتا
ہر شخص کے حالات یا مجبوری وہی جانتا ہے یا اللہ جانتا ہے
اس لیے مجھے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کرسی کی بجائے زمین پہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی ترغیب ضرور دیں البتہ بدعت کا فتوی نہ لگائیں
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ




