سوال 7441
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ اگر وتر رہ جائے ہیں تو صبح کے وقت اس کی قضائی کیسے دیں گے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
وتر چونکہ فرض نہیں ہیں، اس لیے اس کی قضاء ضروری نہیں البتہ اگر کوئی دینا چاہے تو درج ذیل طریقے سے دے سکتا ہے۔
اگر فجر سے پہلے آنکھ کھلی ہے تو اس وقت ہی ادا کرلیں
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے وتر پڑھنے سے سو جائے (اور نہ پڑھ سکے) یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے
(سنن ابی داؤد حدیث نمبر : 1431)
اگر آپ تہجد کے عادی ہیں، ایک وتر پر کفایت نہیں کرتے، بلکہ ایک سے زائد پڑھتے ہیں، مثلاً اگر کوئی تین رکعت ادا کرتا ہے، قضاء کی صورت میں وہ دن کو چار رکعات ادا کرے گا، رسول اللہ ﷺ چونکہ گیارہ رکعات ادا کرتے تھے، اس لیے قضاء کی صورت میں بارہ رکعات ادا کرتے تھے
عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 1743)
اگر کوئی شخص تہجد نہیں ادا کرتا، محض ایک وتر ادا کرتا ہے، تو وہ دن کے وقت بھی ایک وتر ادا کرلے۔
عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّيْلِ». قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ، قَالَ: «فَأَوْتِرْ».
حضرت اغر مزنیؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میری صبح ہو گئی ہے اور میں وتر نہیں پڑھ سکا۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “وتر تو رات ہی میں ہوتے ہیں۔” اس نے دوبارہ عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میری صبح ہو گئی ہے اور میں وتر نہیں پڑھ سکا۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر وتر پڑھ لو۔”
(المعجم الکبیر للطبراني حدیث نمبر : 891)
یاد رکھیں، وتر نماز عشاء نہیں نماز تہجد کا حصہ ہے
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 1718)
حضرت ابو بصرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔
(مسند احمد حدیث نمبر : 23851)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

