سوال 7304

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب سوال یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو اور والدہ ضعیف اور کافی عرصہ سے ذہنی و جسمانی بیماری میں مبتلا ہو دوسرا بہن و بھائی والدہ کے علاج وغیرہ میں بلکل مدد نہ کریں تو کیا والدہ کی جو زمین ہے، وہ آدمی فروخت کرکے خرچہ کرسکتے ہے یا خود لے کر خرچہ کرتا رہے، قرآن و حدیث سے جواب ارسال فرمائیں جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بچوں کا جو کچھ ہوتا ہے وہ ان کے والدین کا ہی ہوتا ہے۔ تو اگر وہ کمزور ہے مالی طور پر جو اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ وہ دو گواہ بنا لیں اور ان کو گواہ بنا کر والدہ کی جو زمین ہے۔ اس کو استعمال کر لیں والدہ کے خرچے کے لیے علاج کے لیے۔ تو حرج نہیں اس میں۔ لیکن جیسے میں نے کہا گواہ بنا لیں۔ اور جتنی ضرورت ہے اتنا استعمال کر لیں۔ اپنی جیب سے کریں گے تو اجر ہی اجر ہے۔ اجر ایسے بھی ہے لیکن وہ اجر اور ہے وہ اجر اور ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته اگر آپکے مالی وسائل اجازت نہیں دیتے تو والدہ کی جائداد بیچ کر انکا علاج کروایا جاسکتا ہے، جان بچانا سب سے اہم ہے

وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا

اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے
[سورۃ النساء آیت نمبر : 29]
نیز دو عادل بندوں کو گواہ لازمی بنائیں،

وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ

اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو
[سورۃ البقرۃ آیت نمبر : 282]
اختلاف سے بچنے کے لیے دو عادل گواہ بنانا ضروری ہے، خصوصاً جب کسی مریض یا ضعیف شخص کی جائیداد فروخت کی جا رہی ہو۔

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ