سوال 7530

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم راہ نمائی فرمائیں۔
جب نبی کریم ﷺ معراج پر گئے تو قیامت ابھی نہیں آئی تھی اور جنت و دوزخ میں لوگوں کا حتمی فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا
تو پھر میرے نبی نے دوزخ میں کن لوگوں کو دیکھا اور جنت میں کن لوگوں کو دیکھا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
چیز ہوتی کہیں ہے اور دکھائی کہیں جاتی ہے، اور آج اس کو سمجھنا بڑا آسان ہے۔ طوفان امریکہ میں آتا ہے اور آپ یہاں بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔ آنے والے حالات کا اندازہ بھی کر لیا جاتا ہے یا انسان اس کو پکچرائز کر لیتا ہے۔
تو اللہ رب العالمین کے لیے کیا مشکل ہے؟ معراج اصل میں معجزہ ہے۔ معجزے کا معنی کیا ہے؟ یہ کہ وہ بندے کی عقل کو عاجز کر دے۔ معراج سے کوئی چیز ہم سمجھ تو سکتے ہیں، ایمان تو لا سکتے ہیں، مگر سو فیصد سمجھنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔
یہ عالمِ تمثیل میں آپ کو دکھایا گیا کہ ایسا ہو رہا ہے اور ایسا ہوگا۔ ایسا کچھ لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے اور ایسا ہوگا۔
کیونکہ جنت اور جہنم تو پہلے سے موجود اور مخلوق ہیں، تیار شدہ ہیں اور اپنی جگہ موجود ہیں۔ بعض لوگ وہاں عذاب بھی بھگت رہے ہیں۔ تو معراج جو ہے، وہ اول تا آخر معجزہ ہے، اور معجزہ انسان کی عقل کو عاجز کر دیتا ہے۔ بس اس پر ایمان لانا ہوتا ہے۔
یہ عالمِ تمثیل تھا۔ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ اللہ نے عالمِ ارواح میں جو عہد لیا، وہ بھی اللہ اس پر قادر تھا اور ہے، اور عالمِ تمثیل میں بھی ایک حقیقت کو دکھایا گیا۔
انبیاء کی روحوں کو لایا گیا، نماز پڑھوائی گئی، اسلام کی قیادت میں ان سے بات بھی کروائی گئی۔ اسی طرح جنت بھی دکھائی گئی اور جہنم بھی دکھائی گئی۔
لہٰذا اس معاملے میں اصل چیز ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے، اور معراج ایک عظیم معجزہ ہے۔ ہمیں اس پر ایمان ہونا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ