سوال 7288
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا ، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم شیوخ عظام اس حدیث مبارکہ میں وسیلہ کا کیا مطلب ہے اس کی وضاحت درکار ہے؟ جزاکم اللّٰہ خیرا۔
جواب
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته زندہ لوگوں کو وسیلہ بناکر ان سے دعا کروائی جاسکتی ہے،
صحابہ کرام بھی رسول ﷺ کو وسیلہ بناتے تھے اور رسول ﷺ سے دعا کرواتے تھے جبکہ رسول ﷺ کی وفات کے بعد ایسا نہیں کیا بلکہ رسول ﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنایا اور ان سے دعا کروائی
یہ ان لوگوں پر بہت بڑی دلیل ہے کہ صحابہ مدینے میں ہونے کے باوجود وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ سے دعا نہیں کروارہے، جبکہ یہاں بعض لوگ مانگنا پسند ہی مُردوں سے کرتے ہیں، یہ تو مشرکین مکہ کا طریقہ تھا
یاد رکھیں کہ وسیلے کے تین جائز اور درست طریقے ہیں، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ “الۡوَسِيۡلَةَ” وَجَاهِدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِهٖ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف قرب تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
(سورۃ المائدہ آیت نمبر : 35)
1 : اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا وسیلہ دے کر اللہ سے دعا کرنا
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا
اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو
اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ، لہٰذا انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو
[سورۃ الأعراف آیت نمبر :180]
مثلاً ایسے دعا کرنا کہ، اللہ تو رحمٰن ہے ہم پر بھی رحم فرما
2 : نیک اعمال کا وسیلہ دینا
صحیح مسلم کی مشہور حدیث ہے کہ غار میں پھنسے تین لوگوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا اور اللہ نے انکو اُس مصیبت سے نکال دیا
[تفصیل کیلئے دیکھیں صحیح مسلم حدیث نمبر : 6949]
3 : زندہ نیک لوگوں سے اپنے حق میں دعا کروانا
جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپ سے دعاء کروایا کرتے تھے لیکن جب آپکی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ کسی ایک صحابی نے بھی پیش نہیں کیا بلکہ آپکے چچا جو زندہ تھے ان سے دعا کروائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
[صحیح البخاری حدیث نمبر : 3710]
کسی نیک آدمی کی وفات کے بعد اسکو وسیلہ بنا کر دعا میں پیش کرنا شرک ہے جیسے مشرکین مکہ کرتے تھے، مشرکین مکہ کا عقیدہ تھا کہ ہماری سنتا نہیں انکی ٹالتا نہیں ہماری انکے آگے انکی اللہ کے آگے
مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى
(وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا
(سورۃ الزمر آیت نمبر : 3)
وَيَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ هٰٓؤُلَاۤءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِؕ قُلۡ اَتُـنَـبِّــئُوۡنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ
اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انھیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ انھیں نفع دیتی ہیں اور کہتے ہیں یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
[سورۃ یونس آیت نمبر : 10]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
یہاں وسيلة کی جائز قسم کا اثبات ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چچا عباس سے بارش کی دعا کروائی
یہی عمل رد ہے وسيلة بالذات والأموات کا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بارش کے حصول کے لئے وسیلہ نہیں بنایا گیا کیونکہ یہ تصور و تعلیم ہی سرے قرآن وحدیث میں موجود نہیں تھا اور سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے اس عمل پر کسی صحابی،اہل بیت سے نکیر ثابت نہیں ہے۔
گویا کہ اس وسیلہ دعا پر تمام صحابہ کرام،اہل بیت کا اتفاق تھا۔
ورنہ بصورت دیگر وہ سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ کے اس عمل پر اعتراض کرتے اور کہتے کہ سیدنا عباس رضی الله عنہ سے اعلی و افضل تو رسول کائنات صلی الله علیہ وسلم کی ذات پاک ہے انہیں وسیلہ بنایا جاتا ۔
تو کسی نیک سیرت عالم دین اور شخص سے دعا کروانا جائز ہے مگر اس کی شخصیت کو وسیلہ بنانا یا اسے پکارنا حرام اور شرک ہے ۔
تو ایمان ،اعمال صالحہ اور کسی صحیح العقیدہ باعمل عالم و مسلمان کی دعا کو وسیلہ بنانا قرآن وحدیث کی روشنی میں جائز ہے۔
مگر وسيلة بالذات والأموات قرآن وحدیث،تعامل صحابہ کرام وسلف صالحین سے ہرگز ثابت نہیں ہے اور بعض کے شاذ اقوال پیش کرنا مردود و غلط یے۔
اس مسئلہ کی تفصیل شیخ الاسلام ابن تیمیہ،شیخ البانی رحمهما الله تعالى کی کتب اور وسیلہ نمبر از مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب کی کتاب میں دیکھ سکتے ہیں
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



