سوال 7372

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ
ایک سوال ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو کیا اس کی روح کی ملاقات پہلے فوت شدہ روحوں سے ہوتی ہے؟
علماء کرام راہنمائی فرمائیں.

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو یہاں سے فوت ہو گیا اور علییین میں چلا گیا جو مقرب فرشتوں کی جگہ ہے حاضری کی جگہ ہے۔ علییین نیک روحوں کو وہاں رکھا جاتا ہے۔ تو اس کے بعد جو فوت ہوگا اور وہ بھی علییین میں جائے گا اگر وہ علییین میں جائے گا تو لا محالہ ملاقات تو ہوگی۔ یہ بات آئی ہے بعض روایات میں وہاں ملاقات ہوتی ہے۔ صرف علییین والوں کا ذکر ہے نیکوکار کا ذکر ہے۔ بدکاروں کا ذکر نہیں وہ پوچھتے ہیں ہاں بھئی آنے والے سے کیا حال ہے؟ کیسے رہا؟ کچھ کہتے ہیں اس کو آرام کرنے دو دنیا کے غموں سے نکل کر آیا ہے۔ پھر سارے مل کر اس سے حال حوال پوچھتے ہیں۔ فلاں کا سناؤ فلاں کا سناؤ۔ پھر وہ کہتے ہیں نہیں فلاں بندہ وہ تو مجھ سے پہلے آ گیا تھا۔ تو یہ آنے والا کہتا ہے مجھ سے پہلے آ گیا تھا تو وہ جو موجود ہوتے ہیں پہلے سے روحیں وہ کہتی ہیں او ہو یہاں تو نہیں آیا۔ اس کو لگتا ہے ہاویہ میں لے کر چلے گئے افسوس کرتے ہیں۔ تو یہ ذکر ہے کہ علییین میں جو لوگ جاتے ہیں ان کی آپس میں ملاقات ہوتی ہے۔
[بخاری: 3336]

قَالَ : قَالَ : اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْأَرْوَاحُ جُنُودُ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا اخْتَلَفَ وَمَا تَنَا كَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ، وَقَالَ : يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا .

میں نے نبی کریم اللہ السلام سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے ۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ خلاف رہتی ہیں ۔ ” اور یحیی بن ایوب نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، آخر تک۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اچھا اس حوالے سے کچھ آثار ایسے موجود ہیں جس کی روح سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی روح جو ہے وہ برزخ میں سابقہ مومن ارواح سے ملاقات کرتی ہے۔ لیکن یہ ملاقات کس کیفیت سے ہوتی ہے؟ اس کی تفصیلات کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔ اس لیے اتنا ہی کہا جائے جتنا قرآن مجید اور احادیث سے ثابت ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ کی ایک روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ روحیں جمع کیے ہوئے لشکر ہیں۔ جن میں باہم پہلے سے مناسبت ہوتی ہے۔ وہ آپس میں مانوس بھی ہو جاتی ہیں اور جن میں اجنبیت ہوتی ہے وہ اختلاف رکھتی ہیں۔ یہ مجھے ذہن میں نہیں آ رہا کہ یہ حدیث جو ہے وہ کس کتاب میں ہے۔ بہرحال اس حدیث سے ارواح کے جو آپس میں باہمی تعلق ہے اس کی حوالے سے کچھ جو ہے اندازہ ہے۔ ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث ہے کہ جب مومن کی روح قبض کی جاتی ہے تو اہل ایمان کی روحیں اس کا اس سے بڑھ کر استقبال کرتی ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے غائب عزیز کی آمد پر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہ اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں شخص کا کیا حال ہے؟ تو ہمارے گروپ میں موجود جو مشائخ ہیں جن کا حدیث پر تخصص ہے وہ ان دونوں کے بارے میں مزید وضاحت کر سکیں گے۔ مجھے تو ان دو احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی روح جو ہے وہ سابقہ مومن ارواح سے ملتی ہے اور وہ دنیا والوں کے بارے میں دریافت بھی کرتی ہے۔ ا لیکن اس کی کیفیت جو ہے وہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے البتہ کافر کی روح کے بارے میں اس طرح کی کوئی بشارت نہیں آئی بلکہ بلکہ ا اس کے لیے تو ا برزخ کے عذاب کی وعید آئی ہے۔ تو ہمیں چونکہ یہ معاملہ غیبیات سے تعلق رکھتا ہے۔ تو غیبیات میں یہ بنیادی جو ایک اصولی قاعدہ ہے۔ اس کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ غیر ثابت شدہ تفصیلات بیان نہ کی جائیں ان سے اجتناب کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ