سوال 7296

یس طہٰ یہ نام رکھنا درست ہیں؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
لوگ نام رکھتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق لوگ اس لیے رکھ لیتے ہیں کہ قران میں ذکر ہوا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب آپ کو معنی ہی نہیں معلوم تو ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: کیا یہ رسول اللہ کے نام تھے؟
جواب: نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

یہ حروف مقطعات ہیں، انکا معنیٰ اور مفہوم صرف اللہ کو پتہ ہے، اس لیے یسین ، طہ وغیرہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے، نیز یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام بھی نہیں تھے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَمِمَّا يُمْنَعُ مِنْهُ التَّسْمِيَةُ بِأَسْمَاءِ الْقُرْآنِ وَسُوَرِهِ، مِثْلَ: طَهَ، وَيٰس، وَحٰم، وَقَدْ نَصَّ مَالِكٌ عَلَى كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِـ: «يٰس». ذَكَرَهُ السُّهَيْلِيُّ.
وَأَمَّا مَا يَذْكُرُهُ الْعَوَامُّ: أَنَّ يٰس وَطَهَ مِنْ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ ﷺ، فَغَيْرُ صَحِيحٍ، لَيْسَ ذٰلِكَ فِي حَدِيثٍ صَحِيحٍ، وَلَا حَسَنٍ، وَلَا مُرْسَلٍ، وَلَا أَثَرٍ عَنْ صَاحِبٍ، وَإِنَّمَا هٰذِهِ الْحُرُوفُ مِثْلُ: الم، وَحم، وَالر، وَنَحْوُهَا.

اور جن ناموں سے نام رکھنا منع ہے، ان میں قرآنِ مجید اور اس کی سورتوں کے نام بھی شامل ہیں، جیسے: طٰہٰ، یٰس، اور حٰم۔ امام مالک رحمہ اللہ نے “یٰس” نام رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اس بات کو امام سہیلی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔
اور عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ “یٰس” اور “طٰہٰ” رسول اللہ ﷺ کے ناموں میں سے ہیں، تو یہ درست نہیں۔ اس بارے میں نہ کوئی صحیح حدیث ہے، نہ حسن، نہ مرسل روایت، اور نہ ہی کسی صحابی کا کوئی اثر۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی الم، حم، الر وغیرہ کی طرح قرآن کے حروفِ مقطعات ہیں۔
(تحفة المودود : ص 184)

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ