سوال 7401

سوال ہے کہ حدیث کی رو سے تابعین جہنم سے محفوظ ہیں، اور چونکہ یزید بن معاویہ تابعی ہیں جن کی بیعت جلیل القدر صحابہ نے کی، تو ان پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کا موقف ہے کہ یزید کی مخالفت دراصل صحابہ پر اعتراض کا راستہ کھولتی ہے، لہٰذا علمائے اہل حدیث کو دیگر تابعین کی طرح ان کا بھی مثبت دفاع کرنا چاہیے۔

جواب

اللہ ایسے لوگوں کے شر سے محفوظ فرمائے، جو اہل بیت کا نام لے کے لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں، جس سے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بار بار ڈرایا تھا
یزید بن معاویہ تو داماد اہل بیت ہیں، رشتے میں یزید کی ساسو ماں، سیدہ زینب تھیں
أم محمد بنت عبد الله بن جعفر بن أبي طالب ابن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف
یزید بن معاویہ کی بیوی تھیں۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر : 261/70)
سیدنا حسنؓ و حسینؓ یزید کے چچا سسر تھے
یزید بن معاویہ کی شخصیت سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا، سیدنا حسین ؓ نے بھی کبھی اس کو زانی، شرابی، قاتل نہیں قرار دیا، حتیٰ کہ سیدنا حسین بھی آخری وقت میں یزید بن معاویہ کی بیعت اور راضی تھے، ھلال بن یساف (ثقہ تابعی) بیان کرتے ہیں :

أن ابن زياد أمر بأخذ مَا بين واقصة إِلَى طريق الشام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يدعون أحدا يلج وَلا أحدا يخرج، فأقبل الْحُسَيْن وَلا يشعر بشيء حَتَّى لقي الأعراب، فسألهم، فَقَالُوا:
لا وَاللَّهِ مَا ندري، غير أنا لا نستطيع أن نلج وَلا نخرج، قَالَ: فانطلق يسير نحو طريق الشام نحو يَزِيد، فلقيته الخيول بكربلاء، فنزل يناشدهم اللَّه والإسلام، قَالَ: وَكَانَ بعث إِلَيْهِ عُمَر بن سَعْدٍ وشمر بن ذي الجوشن وحصين ابن نميم، فناشدهم الْحُسَيْن اللَّه والإسلام أن يسيروه إِلَى أَمِير الْمُؤْمِنِينَ، فيضع يده فِي يده

ابن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ سے لے کر شام کے راستے تک، اور بصرہ کے راستے تک تمام راستوں پر پہرہ بٹھا دیا جائے، تاکہ نہ کوئی شخص اندر آ سکے اور نہ کوئی باہر جا سکے۔
اسی دوران حضرت حسینؓ اس صورتِ حال سے بے خبر آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات کچھ دیہاتی عربوں سے ہوئی۔ آپ نے ان سے حالات پوچھے تو انہوں نے کہا:
اللہ کی قسم! ہمیں کچھ معلوم نہیں، البتہ ہم خود نہ اندر جا سکتے ہیں اور نہ باہر نکل سکتے ہیں۔
پھر حضرت حسینؓ شام کے راستے کی طرف، یزید کی جانب جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے، مگر کربلا میں ان کا سامنا لشکر سے ہو گیا۔ وہاں آپ اترے اور انہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر فرمایا (کہ مجھے جانے دو)
راوی کہتے ہیں کہ ابن زیاد نے عمر بن سعد، شمر بن ذی الجوشن اور حصین بن نمیر کو بھیجا تھا۔ حضرت حسینؓ نے ان سب کو اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر درخواست کی کہ مجھے امیر المؤمنین (یزید) کے پاس جانے دو، تاکہ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دوں
(تاریخ الطبري : 392/5، البداية والنهاية : 517/11)
مزید تفصیل کے لئے
(الاصابة في التمییز الصحابة طبع مصر 334/1)
(تاریخ لابن اثیر 283/3)
(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر 325/4 دیکھیں)
نیز شیعہ کتب کیلئے دیکھیں
(الارشاد جلد 2 / 87)
(اعلام الوری : 241)
(تلخیص الشامی 185 – 186/4)
اگر اتنا سب کچھ ہوگیا تھا تو زین العابدین رحمہ اللہ یزید کے پاس کیوں گئے؟ اتنے سنگین سانحے کو واپس مدینہ آکر بیان کیوں نہیں کیا؟
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 6309)
نیز یزید تو اس لشکر کا سپہ سالار تھا جسکو محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفور لھم (بخشے بخشائے) ہونے کی بشارت دی تھی
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 1186)
سیدنا حسین بھی اس لشکر میں شامل تھے
(البداية والنهاية : 151/8)
یاد رہے اس لشکر کے مجموعی امیر یزید بن معاویہ تھے
(صحیح البخاری حدیث نمبر : 1186)
حضرت خالد بن ولید کے بیٹے صرف مدینے سے نکلنے والے جماعت کے امیر تھے، اس ہی طرح دوسرے اصحاب دوسرے شہروں سے نکلنے والے جماعت کے امیر تھے۔
اس ہی طرح محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ یزید کی تعریفات کرتے تھے
جب اہل مدینہ کے یزید کے پاس سے واپس آئے تو عبداللہ بن مطیع اوران کے ساتھی محمدبن حنفیہ کے پاس آئے اوریہ خواہش ظاہر کی کہ وہ یزید کی بیعت توڑدیں لیکن محمدبن حنفیہ نے ان کی اس بات سے انکار کردیا ، تو عبداللہ بن مطیع نے کہا: یزیدشراب پیتاہے ، نماز چھوڑتاہے کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ میں نے تو اس کے اندر ایسا کچھ نہیں دیکھا جیساتم کہہ رہے ہو ، جبکہ میں اس کے پاس جاچکاہوں اوراس کے ساتھ قیام کرچکاہوں ، اس دوران میں نے تو اسے نماز کا پابند، خیرکا متلاشی ، علم دین کاطالب ، اورسنت کا ہمیشہ پاسدار پایا ۔ تولوگوں نے کہاکہ یزید ایسا آپ کو دکھانے کے لئے کررہاتھا ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اسے مجھ سے کیا خوف تھا یا مجھ سے کیا چاہتاتھا کہ اسے میرے سامنے نیکی ظاہرکرنے کی ضرورت پیش آتی؟؟ کیا تم لوگ شراب پینے کی جوبات کرتے ہو اس بات سے خود یزید نے تمہیں آگاہ کیا ؟ اگرایسا ہے تو تم سب بھی اس کے گناہ میں شریک ہو ، اوراگر خود یزید نے تمہیں یہ سب نہیں بتایا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں کی ایسی بات کی گواہی دو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ۔ لوگوں نے کہا: یہ بات ہمارے نزدیک سچ ہے گرچہ ہم نے نہیں دیکھا ہے ، تو محمدبن حنفیہ نے کہا: اللہ تعالی نے اس طرح گواہی دینے کوتسلیم نہیں کرتا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ”جو حق بات کی گواہی دیں اورانہیں اس کا علم بھی ہو” ، لہذا میں تمہاری ان سرگرمیوں میں کوئی شرکت نہیں کرسکتا ، تو انہوں نے کہا کہ شاید آپ یہ ناپسندکرتے ہیں کہ آپ کے علاوہ کوئی اورامیر بن جائے توہم آپ ہی کو اپنا امیربناتے ہیں ، تو محمدبن حنفہ نے کہا: تم جس چیز پرقتال کررہے ہو میں تو اس کوسرے سے جائز نہیں سمجھتا: مجھے کسی کے پیچھے لگنے یا لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے ، لوگوں نے کہا: آپ تو اپنے والد کے ساتھ لڑائی لڑچکے ہیں؟ تو محمدبن حنفیہ نے کہا کہ پھر میرے والد جیسا شخص اورانہوں نے جن کے ساتھ جنگ کی ہے ایسے لوگ لیکر تو آؤ ! وہ کہنے لگے آپ اپنے صاحبزادوں قاسم اور اورابوالقاسم ہی کو ہمارے ساتھ لڑائی کی اجازت دے دیں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: میں اگران کا اس طرح کا حکم دوں تو خود نہ تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں ۔ لوگوں نے کہا : اچھا آپ صرف ہمارے ساتھ چل کرلوگوں کو لڑالی پر تیار کریں ، محمدبن حنفیہ نے کہا: سبحان اللہ ! جس کو میں خود ناپسندکرتاہوں اوراس سے مجتنب ہوں ، لوگوں کو اس کا حکم کیسے دوں ؟ اگر میں ایسا کروں تو میں اللہ کے معاملوں میں اس کے بندوں کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہوں ۔ وہ کہنے لگے پھر ہم آپ کو مجبورکریں گے محمدبن حنفیہ نے کہا میں اس وقت بھی لوگوں سے یہی کہوں گا کہ اللہ سے ڈرو اورمخلوق کی رضا کے لئے خالق کوناراض نہ کرو
(البداية والنهاية : 233/8)
سیدہ زینب وہاں کیوں ٹھہری؟ انکی وفات بھی دمشق میں ہوئی اور قبر بھی وہیں پر ہے۔ اگر اتنا کچھ ہوتا تو انہوں نے بیان کیوں نہیں کیا۔اہلبیت کے معاملے میں کوئی بات کرنے اور کوئی الزام لگانے سے پہلے دلیل ہونا لازمی ہے۔
حضرت نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادموں اور بیٹوں کو جمع کیا اور کہا: ”بے شک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا:

يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا
ہم نے اس شخص کی بیعت اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔ میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی غداری نہیں کہ ایک شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے، پھر اس کے خلاف لڑائی کھڑی کر دی جائے۔ دیکھو! تم میں سے جو کوئی اس کی بیعت توڑے گا اور کسی دوسرے کی بیعت کرے گا تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 7111)
بنا ثبوت بنا دلیل بات کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی مخالفت نہ کریں جس کی وعید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث ثقلین غدیر خم کے مقام پر کی۔دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں،“ تین بار فرمایا۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 6225)
لہٰذا، اہل بیت کے معاملے میں انتہائی احتیاط برتیں۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ