سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میری پہلی بیوی بیمار رہتی ہے اور اسے ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں اب کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ اس کے لیے آسانی سے آمادہ ہوتی ہے باقی کوئی اور سیریس شکایت نہیں ہے نیت یہی ہے کہ اللہ نیک صالح بیوی دے اور نیک صالح اولاد دے جو میرے لیے صدقہ جاریہ بنے۔

چند سوالات آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں امید ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں گے.

1:کیا میں اپنے ذاتی اثاثوں میں سے کچھ حصہ دوسری بیوی کے نام اس نیت سے کر سکتا ہوں کہ باقی اثاثوں میں وہ اور اس سے ہونے والی اولاد حصے دار نہ بنے اور نہ میں اسکی وراثت کا حق دار بنوں۔ یہ شرط باہمی مفاہمت سے ہوگی تاکہ دونوں فیملیوں کے درمیان مسائل کھڑے نہ ہوں۔

2:کیا جو دوسری بیوی کے نام جائداد وغیرہ منتقل کروں گا اتنا ہی پہلی فیملی کو دینا ہوگا؟ یا کمی بیشی ہوسکتی ہے حسب ضرورت؟

3:کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق سے مکمل یا جزوی طور پر دستبردار ہو سکتے ہیں؟ یعنی عورت اس شرط پر شادی کرے کہ میں آپ سے کسی قسم کے خرچہ کا مطالبہ نہیں کروں گی یعنی صرف ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے لیے نکاح کرنا جائز ہے کیا؟

4: پہلی بیوی شوہر کو یہ کہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کی تو میں پھر آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

1۔میاں بیوی، بچوں اور والدین کا وفات کے بعد ایک دوسرے کا وارث ہونا یہ شرعی حق ہے، اسے کوئی شخص اپنی صوابدید پر ختم نہیں کر سکتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

“لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا”. [النساء:7]

’مردوں کے لئے اس مال میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے بھی ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ اللہ کا مقرر کردہ حصہ ہے‘۔

لہذا ایسی کوئی بھی شرط لگانا کہ میں تمہاری وراثت کا مطالبہ نہیں کروں گا، تم میری وراثت سے مطالبہ نہ کرنا، یہ قطعا درست نہیں ہے۔

2۔ زندگی میں وراثت تقسیم کرنا جائز نہیں۔ ہاں البتہ بطور ہدیہ اور تحفہ جائیداد کسی کو دی جا سکتی ہے، لیکن اس میں مساوات کرنا ضروری ہے، کیونکہ بیویوں اور اولاد میں تحفہ دیتے ہوئے عدل و انصاف ضروری ہے۔ ہاں البتہ ان کی ضروریات پر خرچ کرتے ہوئے حسبِ ضرورت ان کے اخراجات میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے، اس میں برابری ضروری نہیں، لیکن جو صورت آپ بیان کر رہے ہیں، وہ تحفہ اور ہدیہ کی ہے، جس میں برابری ضروری ہے۔

3۔ میاں بیوی کا اکٹھے رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا نکاح کے اہم مقاصد میں سے ہے اور یہ انسان کی فطری ضرورت ہے، ہاں اگر عمر زیادہ ہونے یا کسی وجہ سے میاں یا بیوی میں ازدواجی تعلق کی رغبت ختم ہو جائے، اور وہ باہمی رضامندی سے اپنے حقوق سے دستبردار ہو جائیں، تو یہ جائز ہے، اسی طرح خاوند اگر اپنی خدمت یا بیوی اپنے نان نفقہ سے دستبردار ہونا چاہے، تو یہ بھی جائز ہے۔

4۔ ایک سے زائد شادی کرنا یہ خاوند کا حق ہے اور شریعت نے اسے اس کی اجازت دی ہے، لہذا بیوی اس حلال یا جائز کام کو اس کے لیے ناجائز نہیں ٹھہرا سکتی، جس میں شریعت کی طرف سے اجازت موجود ہے، ہاں اس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ایسے شخص سے شادی کرے یا نہ کرے۔

لیکن اگر بوقتِ نکاح خاوند خود اپنے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے عورت کی اس شرط کو مان  لے کہ وہ مزید شادی نہیں کرے گا، تو پھر اسے اس کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ارشادِ نبوی ہے:

“أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ”.[ بخاري:2721 ومسلم:1418]

’جن شرائط کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، وہ سب سے زیادہ پورا کرنے کا حق رکھتی ہیں‘۔

ایسی صورت میں اگر خاوند شرط کی خلاف ورزی کرے تو عورت کے پاس حق ہے کہ وہ طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کر لے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ