سوال 7282
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر بچوں کو دم کریں تو پھونک مارنا جائز ہے ان کو؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته دم کرکے پھونک مارنا جائز ہے،
جب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے ۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی رحلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کر دیا کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 5714]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» (تینوں سورتیں مکمل) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 5017]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہو جاتے تو «مُعَوِّذَات» پڑھ کر اپنے آپ پر پھونک مارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر (یہ سورتیں) پڑھتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اس سے برکت کی امید پر (آپ کے جسم پر) پھیرتی تھی۔“
[سنن ابن ماجه حدیث نمبر : 3529]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



