شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف

قسط: اوّل

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ برصغیر کے ان ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، توحید کی دعوت، اتباعِ سنت اور علمِ حدیث کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ محدث، محقق، مدرس اور داعی تھے۔ علمِ حدیث سے گہری وابستگی، علمی تحقیق میں انہماک، تدریس و تربیت کا ذوق اور دعوتِ توحید میں استقامت آپ کی علمی زندگی کے نمایاں پہلو تھے۔ آپ کی علمی و دعوتی سرگرمیوں کا دائرہ برصغیر سے آگے عرب دنیا تک پھیلا، جہاں آپ نے تدریسِ حدیث اور علمی مجالس کے ذریعے اہلِ علم سے رابطہ قائم رکھا۔ آپ کی زندگی علم و عمل، تحقیق و تدریس اور دعوت و اصلاح کے حسین امتزاج کی عکاس ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں آپ کے خاندانی پس منظر، تعلیم و تربیت، اساتذہ، تدریسی و دعوتی خدمات اور علمی زندگی کے اہم گوشوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے جب کہ تصانیف و تحقیقی کاموں کی تفصیل ان شاء اللہ دوسری قسط میں پیش ہوگی۔

خاندانی پس منظر، ولادت اور سلسلۂ نسب:
آپ کا تعلق سندھ کے معروف علمی و دینی خاندان ساداتِ راشدیہ سے تھا۔ آپ کا نام بدیع الدین بن سید احسان اللہ شاہ راشدی ہے۔ آپ ​ہجری 18 ذوالحجہ 1343ھ ​عیسوی 10 جولائی 1925ء میں گوٹھ فضل اللہ شاہ، پیر جھنڈو، سندھ میں پیدا ہوئے۔
آپ کا سلسلہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے:
سید بدیع الدین شاہ بن سید احسان اللہ شاہ بن سید رشد اللہ شاہ بن سید رشید الدین شاہ بن سید محمد یاسین شاہ بن سید محمد راشد شاہ الحسینی الراشدی رحمہم اللہ۔
آپ کا نسب چالیسویں پشت میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور اکتالیسویں پشت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے اجداد، ساداتِ لکیاری، چوتھی صدی ہجری میں عراق کے علاقے کاظمین سے سندھ تشریف لائے اور لکی شاہ صدر، ضلع دادو میں سکونت اختیار کی۔ ان کی آمد کا مقصد تبلیغِ اسلام اور دین کی خدمت بیان کیا جاتا ہے۔
آپ کے والد سید احسان اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ صاحبِ علم اور کتاب و سنت سے گہرا شغف رکھنے والے بزرگ تھے، جب کہ آپ کے بڑے بھائی شیخ الاسلام علامہ سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ اپنے عہد کے ممتاز محدث، محقق اور صاحبِ قلم تھے۔ اس طرح آپ کو بچپن ہی سے علمی و دینی ماحول میسر آیا، جس نے آپ کی علمی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
سید محمد راشد شاہ المعروف روضہ دھنی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد راشدی خاندان کی دو نمایاں شاخیں معروف ہوئیں۔ ایک شاخ پیر پگارا کے نام سے پہچانی گئی، جس کی نسبت سید صبغت اللہ شاہ اول کو ملنے والی دستار سے بیان کی جاتی ہے دوسری شاخ پیر جھنڈا کے نام سے معروف ہوئی، جس کی نسبت سید محمد یاسین شاہ کو ملنے والے علم و دعوت کے جھنڈے سے ہے۔علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ اسی علمی و دعوتی خانوادے، یعنی پیر جھنڈا خاندان، کے فرد تھے۔ آپ کے خاندان نے سندھ میں دینی تعلیم، تدریس اور دعوتِ کتاب و سنت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی ماحول میں آپ کی شخصیت پروان چڑھی اور آپ نے آگے چل کر علمِ حدیث، تحقیق، تدریس اور دعوتِ توحید کے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

حفظِ قرآن:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو کم عمری ہی سے قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق عطا فرمایا۔ آپ نے نہایت کم مدت میں قرآن مجید حفظ کیا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے صرف تین ماہ میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔حفظِ قرآن کے بعد آپ نے عربی علوم اور دینیات کی باقاعدہ تعلیم کی طرف توجہ کی اور مختلف اہلِ علم سے استفادہ کیا۔

تعلیم و تربیت:
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی علمی مرکز دارالرشاد، پیر جھنڈو میں حاصل کی۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم کی طرف توجہ کی۔آپ نے اپنے والد سید احسان اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ اور بڑے بھائی سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں مختلف اہلِ علم کی مجالس میں حاضر ہوکر اپنے علم میں اضافہ کیا۔ آپ کو مطالعے، قوتِ حافظہ اور حدیث سے خصوصی شغف تھا۔ یہی علمی ذوق آگے چل کر آپ کی تدریسی، تحقیقی اور تصنیفی زندگی کی بنیاد بنا۔آپ نے حدیث کی بنیادی کتابوں، فقہ، اصولِ فقہ، عربی زبان اور دیگر دینی علوم کا مطالعہ کیا۔ کتبِ حدیث اور ان کی اسانید سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔

اساتذہ کرام:
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے اپنے والد اور بڑے بھائی کے علاوہ متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
1) سید احسان اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ
2) سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ
3) مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ
4) حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ
5) مولانا ابو اسحاق نیک محمد امرتسری رحمہ اللہ
6) مولانا ابو سعید شرف الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ
7) شیخ ابو محمد عبدالحق ہاشمی رحمہ اللہ
8) شیخ محمد اسماعیل بن عبدالخالق سندھی رحمہ اللہ
9) شیخ ولی محمد بن محمد عامر کیریو رحمہ اللہ
10) شیخ محمد نور عیسیٰ خیل رحمہ اللہ
11) شیخ بہاء الدین جلال آبادی رحمہ اللہ
12) شیخ محمد مدنی رحمہ اللہ
13) شیخ عبداللہ بن عمر بن عبدالغنی رحمہ اللہ
14) شیخ محمد خلیل بن محمد سلیم خیرپوری رحمہ اللہ

درس و تدریس اور علمی مقام:
تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے علاقے میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیم، وعظ و تبلیغ، دعوت و ارشاد اور علمی تحقیق میں گزارا۔ آپ کے دروس میں قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔آپ حدیث، تفسیر، فقہ، عقیدہ اور اسماء الرجال کے علوم میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ کتبِ حدیث اور ان کی اسانید کا مطالعہ کرتے اور علمی مسائل کو دلائل کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔آپ نے مدرسہ محمدیہ قائم کرکے تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہاں مختلف دینی علوم اور حدیث و تفسیر کی کتابوں کے درس کا ذکر ملتا ہے۔ آپ کی تدریسی سرگرمیوں کا دائرہ سندھ تک محدود نہ رہا، بلکہ پاکستان کے دوسرے علاقوں اور حرمین شریفین کے علمی حلقوں تک پھیل گیا۔

دعوتِ توحید اور اتباعِ سنت:
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی دعوت کا بنیادی محور توحید، اتباعِ سنت اور قرآن و حدیث کی طرف رجوع تھا۔ آپ شرک و بدعات کی تردید کرتے اور لوگوں کو عبادات و معاملات میں کتاب و سنت کی پیروی کی دعوت دیتے تھے۔آپ نے سندھ کے مختلف علاقوں میں دعوتی سفر کیے۔ عوامی اجتماعات، مساجد اور علمی مجالس میں توحید کی اہمیت، سنت کی پیروی اور غیر شرعی رسوم سے اجتناب پر گفتگو کرتے۔ آپ کی دعوت میں دلائل کی وضاحت اور عام لوگوں کی ذہنی سطح کا لحاظ نمایاں تھا۔دعوتِ کتاب و سنت اور شرک و بدعت کی تردید کے سلسلے میں آپ کو مخالفت اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا،لیکن آپ اپنے دعوتی موقف پر ثابت قدم رہے۔

خطابت اور مناظرات:
آپ بلند پایہ خطیب اور مضبوط استدلال کے حامل مناظر تھے۔ مختلف علمی و فقہی مسائل پر گفتگو کرتے اور اپنے موقف کی تائید میں قرآن و حدیث سے دلائل پیش کرتے تھے۔ توحید، شرک کی تردید، اتباعِ سنت، نماز کے مسائل اور قراءت خلف الامام جیسے موضوعات آپ کی دعوتی و علمی سرگرمیوں میں نمایاں رہے۔آپ نے اپنے زمانے کے مختلف علمی حلقوں میں مناظروں اور مباحثوں میں حصہ لیا۔ آپ کی گفتگو میں حدیث سے استدلال، مسائل کی وضاحت اور مخالف موقف کے دلائل کا جائزہ لینے کا انداز نمایاں تھا۔ آپ نے خطابت اور تحریر دونوں کے ذریعے اپنے علمی و دعوتی موقف کو لوگوں تک پہنچایا۔

حرمین شریفین میں تدریسی خدمات:
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی علمی سرگرمیاں سندھ تک محدود نہیں رہیں۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ 1395ھ کے اواخر میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور تقریباً چار سال وہاں قیام کیا۔اس دوران آپ نے مسجد حرام میں حدیث کی اہم کتابوں، کتبِ ستہ اور امام ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب المحلّٰی کا درس دیا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے دارالحدیث میں بھی تدریس کی، پھر شیخ عبداللہ بن حمید رحمہ اللہ کی درخواست پر معہد الحرم المکی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
حرمین شریفین میں آپ کے دروس سے مختلف ممالک کے طلبہ اور اہلِ علم نے استفادہ کیا۔ وہاں تدریس اور علمی روابط کے باعث آپ کی شہرت سندھ سے آگے عرب دنیا کے علمی حلقوں تک پہنچی۔ آپ کو شیخ العرب والعجم کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔

علمی حافظہ اور اہلِ علم کی شہادت:
آپ کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو قوتِ حافظہ، کثرتِ مطالعہ اور نصوصِ شرعیہ سے استدلال تھا۔ آپ کو احادیث اور علمی مباحث یاد رکھنے اور مناسب موقع پر ان سے استشہاد کرنے کی صلاحیت حاصل تھی۔
شیخ ربیع بن ہادی المدخلی صاحب نے بھی علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ سے علمی استفادے کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق انہوں نے آپ کے سامنے بعض کتابیں پڑھیں اور آپ سے عمومی اجازت بھی حاصل کی۔ یہ تعلق اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ آپ کی علمی شخصیت سے عرب دنیا کے اہلِ علم نے بھی استفادہ کیا۔

بیرونِ ملک دعوتی اسفار:
آپ نے دعوت و تبلیغ کے لیے مختلف علاقوں اور ممالک کے سفر کیے۔ بعض تذکروں میں عرب ممالک اور دیگر علاقوں کے دعوتی اسفار کا ذکر ملتا ہے۔ ان اسفار کا مقصد دینی تعلیم، دعوتِ توحید اور قرآن و سنت کی تبلیغ تھا۔آپ کے علمی دروس اور دعوتی خطابات سے پاکستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی متعدد افراد نے استفادہ کیا۔ آپ نے جہاں تدریس کی، وہاں علمی مذاکروں اور دعوتی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف متوجہ کیا۔

تلامذہ اور مستفیدین:
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ سے مختلف ادوار میں بہت سے طلبہ اور اہلِ علم نے استفادہ کیا۔
1) شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ
2) شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ
3) شیخ بشار عواد معروف حفظہ اللہ
4) شیخ عمر بن محمد بن عبداللہ السبیل رحمہ اللہ
5) شیخ عبدالقادر بن حبیب اللہ السندی المدنی رحمہ اللہ
6) شیخ عبدالرب فیض اللہ پاکستانی
7) شیخ حمدی عبدالمجید السلفی رحمہ اللہ
8) شیخ وصی اللہ عباس حفظہ اللہ
9) شیخ علی بن عامر الیمانی
10) شیخ محمد شاہ راشدی رحمہ اللہ
11) شیخ نور اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ
12) شیخ عاصم عبداللہ القریوتی
13) شیخ حسن حیدر یمانی
14) شیخ محمد موسیٰ افریقی
15) شیخ عبداللہ بن محمد الحربی
16) شیخ سعیدی بن مہدی بغدادی
17) حافظ فتحی الجہلمی
18) شیخ نور اللہ بن شہباز الہندی
19) شیخ حسن سعودی
20) شیخ اسلم بن محمد الاردنی
21) شیخ سیف الرحمن بن مصطفیٰ المکی
22) شیخ صلاح الدین مقبول احمد رحمہ اللہ
23) شیخ شمس الدین افغانی رحمہ اللہ
24) شیخ محمد رفیق الاثری رحمہ اللہ
25) شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
26) حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
27) شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
28) حافظ مطیع الرحمن
29) شیخ یعقوب حوساوی المکی
30) شیخ محمد حسین ظہیری
31) شیخ محمد قاسم
بعض شخصیات کے ساتھ باقاعدہ شاگردی، بعض کے ساتھ علمی استفادے اور بعض کے ساتھ اجازت یا علمی تعلق کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے

جماعتی و دعوتی خدمات:
آپ نے سندھ میں دعوتِ اہلِ حدیث کے فروغ اور جماعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ جمعیت اہلِ حدیث سندھ سے آپ کی وابستگی اور قیادت کا ذکر ملتا ہے۔ آپ کی توجہ دینی تعلیم کے فروغ، عوام کی اصلاح اور کتاب و سنت کی دعوت کو منظم انداز میں آگے بڑھانے پر مرکوز رہی۔آپ نے دعوتی سرگرمیوں کے ذریعے عقیدے کی اصلاح، سنت کی تعلیم اور غیر شرعی رسوم کی تردید پر توجہ دی۔ تدریس، خطابت، مناظرات اور تحریر کے ذریعے آپ نے اپنے علمی و دعوتی موقف کو لوگوں تک پہنچایا۔

مکتبہ راشدیہ، مخطوطۂ مسند الشامیین اور علمی ذخیرے کی حفاظت:
علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کتابوں، نادر مطبوعات، مخطوطات اور علمی ذخیرے سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔ راشدی خاندان کا کتب خانہ قدیم اور نادر علمی کتابوں کے حوالے سے اہمیت رکھتا تھا، جس سے آپ مطالعے اور تحقیق کے لیے استفادہ کرتے تھے۔ آپ کی علمی دلچسپی محض مطالعے تک محدود نہ تھی، بلکہ حدیثی مصادر اور علمی ورثے کے تحفظ و تحقیق سے بھی وابستہ تھی۔
اس علمی ذخیرے میں امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی رحمہ اللہ کی کتاب (مسند الشامیین) کا ایک قلمی نسخہ بھی موجود تھا۔ اس نسخے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کتاب کے محقق شیخ حمدی بن عبدالمجید السلفی رحمہ اللہ نے اپنی تحقیق میں علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی ملکیت والے اس نسخے سے استفادہ کیا۔ محقق نے اس نسخے کی عکسی نقل فراہم کرنے پر صہبی جاسم البدری السامرائی کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ اسی مقدمے میں شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کی ملکیت میں موجود ایک دوسرے نسخے کا ذکر بھی ملتا ہے، جو پہلے نسخے سے نقل کیا گیا تھا۔

تصنیفی و تحقیقی خدمات:
علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے عربی، اردو اور سندھی زبانوں میں متعدد علمی و تحقیقی کتابیں اور رسائل تحریر کیے۔ آپ کی تصنیفی دلچسپی کے موضوعات میں توحید، عقیدہ، اتباعِ سنت، حدیث، اسماء الرجال، فقہ، نماز کے مسائل اور تفسیر شامل تھے۔آپ کی علمی تحریروں میں بدیع التفاسیر، تنقیدِ سدید اور فاتحہ خلف الامام جیسی تصانیف کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مختلف دینی و فقہی موضوعات پر بھی قلم اٹھایا۔ آپ کی تصنیفی خدمات کا بنیادی مقصد قرآن و سنت کی روشنی میں دینی مسائل کی وضاحت اور علمی مباحث کو اہلِ علم اور عام قارئین تک پہنچانا تھا۔ تصانیف و تحقیقی کاموں کی تفصیل ان شاء اللہ دوسری قسط میں پیش ہوگی۔

وفات:
علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ 8 جنوری 1996ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔آپ کی نمازِ جنازہ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے پڑھائی۔ آپ کو سندھ میں پیر جھنڈو کے علاقے، نیو سعید آباد کے قریب، اپنے آبائی علاقے میں اپنے بڑے بھائی سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کی وفات سے اہلِ علم، شاگردوں اور دعوتِ اہلِ حدیث سے وابستہ افراد ایک ممتاز عالم، محدث، محقق اور داعی سے محروم ہوگئے۔

علمی و دعوتی ورثہ:
شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی زندگی تدریس، تحقیق، خطابت، تصنیف اور دعوتِ کتاب و سنت سے عبارت تھی۔
آپ کی زندگی کا نمایاں پہلو توحید کی دعوت، اتباعِ سنت کی تاکید، حدیث سے استدلال، علمی تحقیق اور طلبہ کی تعلیم و تربیت تھا۔ آپ کے دروس، تحریریں اور دعوتی سرگرمیاں آپ کے علمی ورثے کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی تصانیف و تحقیقات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور امتِ مسلمہ کو ان کے علمی ورثے سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

💠 جاری ہے۔۔۔ قسط دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔

ناشر: حافظ امجد ربانی