سوال 7219

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرما دیجئے جو مائیں اپنے چھوٹے بچوں کا پیشاب وغیرہ دھوتی ہیں صاف کرتی ہیں تو کیا ہاتھ لگانے سے ان کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں اس بارے میں رہنمائی فرما دیں دلیل کے ساتھ اللہ تعالی اپ لوگوں کو عزتیں دے برکتیں دے. آمین

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرب و عجم کے دو قسم کے فتوے ہمارے سامنے ہیں۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جی وضو نہیں ٹوٹتا اس والدہ کا جو بچے کو استنجا کرواتی ہے۔ ان کا استدلال حدیث سے ہے کہ مس فرجہ جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا تو وہ اس سے استدلال کرتے ہیں۔ دوسرا جو فتویٰ ہے وہ یہ ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مس فرجہ مطلقا بھی آیا ہے۔ تو ہمارے نزدیک یہ بات زیادہ اولی ہے بغیر کسی حائل کے اگر اپنی یا دوسرے کی شرم گاہ کو ہاتھ لگ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے تو لہٰذا والدہ کا وضو بچے کو استنجا کرواتے ہوئے ٹوٹ جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ