سوال 7302

السلام علیکم جی سگریٹ اور نسوار کا کاروبار کرنا کیسا ہے اگر حرام ہے تو مکمل دلیل کے ساتھ تفصیل تحریر سینڈ کردیجئے۔ جزاک اللہ

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته سگریٹ اور نسوار، یہ نشہ آور ہوتی ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

ہر مسکر (نشہ دینے والی چیز) خمر ہے اور مسکر حرام ہے۔
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 2003]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ

جو چیز زیادہ استعمال کرنے سے نشہ دے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے۔
[جامع ترمذی حدیث نمبر : 1865]
یعنی جو چیز نشہ آور ہے، وہ حرام ہے، چاہے کم ہو یا زیادہ، اور حرام چیز کا کاروبار بھی حرام ہے۔

وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ

اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کر دیتا ہے، تو اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے
[سنن ابی داؤد حدیث نمبر : 3488]

وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ

بیشک اللہ تعالیٰ کسی چیز کو حرام قرار دے دے تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دے دیتا ہے
[صحیح ابن حبان حدیث نمبر : 4938]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ