سوال 7408
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
بعض صوفیائی، خانقاہی سلسلے اور مختلف دعوتی ، تبلیغی و تحریکی تنظیموں سے جڑے لوگ بیعت لیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بیعت لینا صاحب اقتدار کے لیے ہے نہ کہ نجی سلسلوں و تحریکوں کے لیے ۔ تو اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلامی نقطہ نظر سے بیعت صرف شرعی امام اور خلیفہ کی ہوتی ہے۔ باقی اپنے نظم و ضبط ہیں سیاست اور مذہب کے جو لوگوں نے بنا رکھے ہیں۔ یا طریقت کے صوفی ازم نے بنا رکھے ہیں۔ خانقاہی سلسلے۔ یہ سلسلے تو خود اسلام سے ثابت نہیں ہیں۔ چہ جائے کہ ان کی بیعت ثابت ہو۔ تو بیعت صرف شرعی خلیفہ اور امام کی ہے بس۔ آخر جو کچھ ہے وہ خود ساختہ اور خود کشیدہ اور تراشیدہ ہے۔ کوئی حیثیت نہیں ہے اس کی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اچھا اس میں سب سے پہلے جو لفظ بیعت ہے نا اس کے مفہوم کو واضح کیا جائے کیونکہ یہ لفظ مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ان معنی میں فرق نہ کیا جائے تو پھر افراط و تفریط والا معاملہ ہو سکتا ہے۔ بعض مقامات پر بیعت کا لفظ صرف لغوی طور پر استعمال ہوا ہے۔ بعض مقامات پر اصطلاحی معنی میں استعمال ہوا ہے اور بعض مقامات پر اہل بدعت نے بھی اس کا اپنے جو تصوف اور سلاسل سلاسل تصوف اور اپنی جماعتوں کے حوالے سے استعمال کیا ہے۔ تو سب سے پہلا جو لفظ بیعت کا استعمال ہو سکتا ہے وہ بیعت ہے جو مسلمانوں کے حکمران کے ہاتھ پر کی جاتی ہے۔ تاکہ اس کی اطاعت کی جائے اور امت کا جو نظم ہے وہ باقی رہے۔ یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اس کے الفاظ میرے ذہن میں نہیں ہیں لیکن مفہوم اس کا کچھ ایسا ہے کہ جس نے امام کی بیعت کی تو اسے چاہیے۔ چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کی اطاعت کرے۔ تو یہ جو بیعت ہے یہ تو حکمرانوں کے ساتھ خاص ہے۔ اور یہ بیعت کسی بھی حکمرانوں کے علاوہ کسی کے لیے بھی یہ چیز جائز نہیں ہوگی۔ اچھا دوسری اچھا یہ جو میں نے پہلی بات کی ہے یہ بیعت اصطلاحی طور پر کتاب و سنت میں ہمیں ملتی ہے۔ اس کا دوسرا مطلب جو ہے کہ کسی اچھے کام پر عہد کرنا یا عہد لینا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہمیں اس طرح کی مثالیں جو ہے ملتی ہیں۔ جیسے کہ بیعت عقبہ ہے، بیعت رضوان ہے، عورتوں سے اسلام اور معروف پر بیعت لینے کی مثال دی جا سکتی ہے، ٹھیک ہے۔ تو اس کی جو قرآن مجید میں سورۃ سورۃ الفتح میں جو آتی ہے ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ٹھیک ہے۔ اسی طرح سورہ ممتحنہ میں ہے اللہ المستعان کیا ہے کلمات اس کے؟ اذا جاءک المومنات یبایعنک ٹھیک ہے۔ تو یہ جو بیعت تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ساتھ خاص فضیلت رکھتی ہے اس پر کسی اور کو قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ اچھا یہ بات تو کلیئر ہو گئی اس کے بعد یہ سوال جو ہے کیا کسی شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی جا سکتی ہے یا تنظیمی امیر کے ہاتھ پر بیعت کی جا سکتی ہے؟ تو اس میں حتمی رائے تو مشائخ دیں گے میں اپنی صرف ذاتی رائے دے سکتا ہوں کہ بیعت سے مراد اگر عہد ہو کہ انسان یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں فلاں شیخ کے ساتھ ہوں اور ان سے اصلاح لینا چاہتا ہوں، تربیت کے دروس لینا چاہتا ہوں، نیکی پر استقامت کا ارادہ ہے، ٹھیک ہے۔ اور اسے شرعی طور پر لازم نہیں سمجھتا یا نجات کا ذریعہ نہیں سمجھتا تو یہ ایک وعدہ ہے، عہد ہے، ٹھیک ہے۔ جس کو آپ شاید لغوی اعتبار سے یا عرفی اعتبار سے بیعت کے مفہوم میں لے لیں لیکن یہ عملاً بیعت نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ سوچ ہو، فکر ہو کہ ہر مسلمان پر کسی پیر یا شیخ کی بیعت فرض ہے۔ یا بیعت کے بغیر دین ناقص ہے۔ یا کسی شیخ کی اطاعت کو مطلقاً واجب سمجھا جائے۔ یا پھر اس سے غیر مشروط وفاداری لی جائے تو یہ تو بدعت ہے۔ کیونکہ اس ایسی کسی کیفیت پر نہ قرآن مجید کی کوئی آیت ہے نہ احادیث سے ہمیں اس کی کوئی دلیل ملتی ہے۔ جہاں تک بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود دعوتی، تبلیغی اور تحریکی جماعتوں کے جو امراء بیعت لیتے ہیں۔ تو اس کو اگر اس حد تک لیا جائے کہ وہ جیسا کہ حلف اٹھایا جاتا ہے کسی بھی نظم میں حلف لیا جاتا ہے گو ہم اس کو حلف نہیں کہتے میں جامع ابوبکر میں پڑھانے کے لیے گیا ہوں تو میں نے ان کا ایک جو فارم تھا وہ فل کیا تو ایک طرح سے وہ بیعت ہو گئی یا اس کو حلف کہہ لیں اس کو معاہدہ کہہ لیں اس کو عہد کہہ لیں اس کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے۔ تو ایسی اگر کیفیت ہے تو اس کو بیعت کا نام دینے سے ہمیں اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک انتظامی ایک معاہدہ ہے یہ تو کمٹمنٹ ہے۔ تو اس کو اگر شرعی بیعت کا نام دیا جائے تو اور پھر وہی احکام نافذ کیے جائیں جو کہ حکمرانوں کی بیعت کے ساتھ ہیں تو یہ تو بالکل غلط والا مطلب ہے یوں سمجھیں کہ غلط راستے کو اختیار کرنا یا اہل تصوف والی گمراہی کہی جا سکتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مجموع الفتاوی میں مجھے وہ پچھلے دنوں میں پڑھ رہا تھا حوالہ تلاش کرتا ہوں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کے ہاتھ پر ایسی بیعت لینا جسے عام طور پر شرعی التزام بنا دیا جائے۔ مشروع نہیں ہے۔ الا یہ کہ کسی مباح مقصد کے لیے وعدہ یا معاہدہ ہو۔ تو پھر اس میں کوئی اس میں مضائقہ نہیں ہے۔ اور ہمارے مشائخ اور ہمارے معاصر علماء نے عمومی طور پر تنظیمی امراء کو بیعت لینے سے منع کیا ہے۔ یا صوفیانہ بیعت کو بھی اس سے بھی اجتناب کرنے کے لیے کہا ہے اور یہ عمومی طور پر جو ہم خلاصے کے طور پر کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر واجب بیعت صرف حکمرانوں کی ہے نہ کہ جماعت اور تحریک کے امیر کی ہے۔ اور اس کے علاوہ جہاں بھی کہیں لفظ بیعت استعمال ہو رہا ہے تو وہ بنیادی طور پر عہد ہو سکتا ہے وعدہ ہو سکتا ہے کمٹمنٹ ہو سکتی ہے۔ ٹھیک ہے اس کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ


