سوال 7407
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک عورت کا خلع کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ کیس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ شوہر نے اس کو ایک طلاق دے دی۔
اس کے کچھ روز بعد عدالت نے خلع کی ڈگری بھی جاری کر دی۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ طلاق بھی شمار ہو گی؟
اور اب وہ خلع کی عدت میں ہے تو کیا خلع کی عدت کے دوران ان کا ہی آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟
یا عدت گزرنے کے بعد ہو سکے گا؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ طلاق رجعی ہو طلاق رجعی ہو تو طلاق کی عدت کے دوران جیسے رجوع ہو سکتا ہے ایسے خلع بھی ہو سکتا ہے۔ تو خلع اگر عورت نے لے لیا ہے تو معتبر ہے۔ اب عدت یہ ہے کہ بعض علماء خلع کی تین حیض بتاتے ہیں ہمارے ہاں ایک حیض ہے دلائل کی رو سے۔ تو استبرائے رحم مراد ہے۔ حیض کی عدت اس پہ لاگو ہو جائے گی۔ البتہ چونکہ سوال میں یہ پوچھا گیا ہے کہ کیا اس سے شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے؟ جی ہاں بالکل ہو سکتا ہے۔ عدت کے دوران ہو سکتا ہے جی ہاں عدت کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔ خلع کی عدت کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ


