نبی کریم ﷺ کی سیرت و خصائص سے متعلق چند باتیں

نبی کریم ﷺ کے متعلق بہت ساری باتیں أهل السنة والجماعة کے ہاں محلِ اجماع ہیں، ان کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں :

١) آپ ﷺ افضل البشر تھے۔
(الشفا للقاضي عياض : ١٧٩/١)

٢) آپ ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے۔
(تاريخ الطبري : ٢٩٣/٢)

٣) آپ ﷺ بنو اسماعیل میں سے تھے، اور آپ کا سلسلۂ نسب عدنان سے ہو کر جاتا ہے۔
(التبيين في أنساب القرشيين لابن قدامة : ٥٥)

٤) آپ ﷺ کی کنیت ابو القاسم تھی۔
(الاستيعاب لابن عبدالبر : ٤٩/١)

٥) آپ ﷺ کی پہلی بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں اور ان کی زندگی میں آپ نے کوئی اور شادی نہیں کی۔
(الاستيعاب لابن عبدالبر : ١٧١٩/٤)

٦) ایک وقت میں چار سے زیادہ نکاح آپ ﷺ کا خاصہ تھا۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ١١٥)

٧) آپ ﷺ کی ازواج مطہرات امت پر ماؤں کی طرح حرام ہیں۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ١١٨)

٨) آپ ﷺ کی تمام اولاد خدیجہ سے اور ابراہیم ماریہ کے بطن سے تھے۔
(جامع الأصول لابن الأثير : ١٠٧/١٢)

٩) آپ ﷺ کی چار بیٹیاں تھی، زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ۔
(المفهم لأبي العباس القرطبي : ٣١٣/٦)

١٠) آپ ﷺ کے بیٹوں میں قاسم اور ابراہیم نام کے دو بیٹے تھے۔
(التبيين في أنساب القرشيين لابن قدامة : ٨٧)

١١) آپ ﷺ کے تمام بیٹے بچپن میں فوت ہوئے۔
(فتح الباري لابن حجر : ١٣٧/٧)

١٢) آپ ﷺ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ٢٧١)

١٣) آپ ﷺ کی تمام باتوں کی تصدیق کرنا واجب ہے۔
(الإقناع لابن القطان : ٥٠/١)

١٤) آپ ﷺ کی شریعت کامل و شامل ہے۔
(الاعتصام للشاطبي : ٦٥/١)

١٥) آپ ﷺ کے افعال شرعی حجت ہیں۔
(المحصول لابن العربي : ١٠٩)

١٦) آپ ﷺ کی تقریر / سکوت بھی حجت ہے۔
(شرح صحیح البخاري لابن بطال : ٣٧٦/١٠)

١٧) اگر آپ ﷺ سے کہیں اجتہادی خطا ہوئی تو بذریعۂ وحی تنبیہ کر دی گئی۔
(منهاج السنة لابن تيمية : ٤١٠/٢)

١٨) آپ ﷺ کسی امتی کو خواب میں کچھ کہیں، وہ شرعی حجت نہیں ہے۔
(مجموع فتاوى ابن تيمية : ٤٥٧/٢٧)

١٩) آپ ﷺ شیطان کے وساوس اور مکر سے محفوظ و مامون تھے۔
(الشفا للقاضي عياض : ١٢٤/٢)

٢٠) آپ ﷺ تبلیغِ رسالت کے فریضے میں معصوم تھے۔
(شرح صحیح البخاري لابن بطال : ٣٦٠/٥)

٢١) آپ ﷺ کی رسالت جن و انس دونوں کیلیے تھی۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ٢٦٧)

٢٢) آپ ﷺ آخری نبی تھے۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ٢٦٨)

٢٣) آپ ﷺ قبل از نبوت بھی شرک، کبائر اور فواحش سے معصوم تھے۔
(سير أعلام النبلاء للذهبي : ١٣١/١)

٢٤) آپ ﷺ خلافِ مروءت صغائر سے بھی معصوم تھے۔
(إكمال المعلم للقاضي عياض : ٥٧٤/١)

٢٥) آپ ﷺ پر جھوٹ باندھنا حرام ہے اور اسے حلال سمجھنا کفر ہے۔
(الفصول لابن كثير : ٤١٣)

٢٦) آپ ﷺ کی کسی بات کی تکذیب کرنے والا کافر ہے۔
(الشفا للقاضي عياض : ٢٤٤/٢)

٢٧) آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے، خواہ توحید کی گواہی دیتا ہو۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ٢٦٧)

٢٨) آپ ﷺ کی شریعت کے علاوہ کسی اور شریعت کی اتباع کو جائز سمجھنے والا کافر ہے۔
(مجموع فتاوى ابن تيمية : ٥٢٤/٢٨)

٢٩) آپ ﷺ کو گالی دینے والا کافر ہے۔
(الشفا للقاضي عياض : ٢٣٠/٢)

٣٠) آپ ﷺ کو گالی دینے والے مسلمان کی سزا قتل ہے۔
(الإجماع لابن المنذر : ٧٨٩)

٣١) شکست یا ہزیمت کے الفاظ کے ساتھ آپ ﷺ کا ذکر کرنا حرام ہے۔
(إكمال المعلم للقاضي عياض : ٦٣/٦)

٣٢) آپ ﷺ کی انگشت کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوا۔
(الشفا للقاضي عياض : ٢٨٩/١)

٣٣) آپ ﷺ اسراء اور معراج سے سرفراز ہوئے۔
(الإقناع لابن القطان : ٤٩/١)

٣٤) دعاء کی ابتداء میں آپ ﷺ پر درود بھیجنا مستحب ہے۔
(الأذكار للنووي : ٢٠٧)

٣٥) نماز میں آپ ﷺ پر درود بھیجنا مشروع ہے۔
(جلاء الأفهام لابن القيم : ٣٨٠، ٤٣١)

٣٦) آپ ﷺ کی مسجد میں نماز عام مساجد میں نماز سے ہزار گنا افضل ہے۔
(الاستذكار لابن عبدالبر : ٢٢٦/٧)

٣٧) آپ ﷺ کی مسجد کی طرف سفر / شدِ رحال مستحب ہے۔
(مجموع فتاوى ابن تيمية : ٢٢٦/٢٧)

٣٨) آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر چند معین لوگوں کے علاوہ عام معافی کا اعلان کیا۔
(المفهم لأبي العباس القرطبي : ٦٣١/٣)

٣٩) آپ ﷺ نے چار عمرے کیے۔ تمام عمرے حج سے پہلے اور ذو القعدة میں کیے، رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
(مجموع فتاوى ابن تيمية : ٥٥/٢٦، ٦٢/٢٦، ١٤٨/٢٤)

٤٠) آپ ﷺ نے ایک ہی حج کیا۔
(المجموع للنووي : ٢٢٢/٧)

٤١) آپ ﷺ کے عنفقہ (ٹھوڑی اور ہونٹوں کے درمیان) اور کنپٹی کے بالوں میں چاندی اتر آئی تھی۔
(التمهيد لابن عبدالبر : ٨٢/٢١)

٤٢) آپ ﷺ کا ازار نصف پنڈلی تک تھا۔
(الإقناع لابن القطان : ١٢٣/١)

٤٣) آپ ﷺ کی وفات ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔
(الروض الأنف للسهيلي : ٥٧٨/٧)

٤٤) آپ ﷺ کو آپ کی قمیص میں غسل دیا گیا۔
(الاستذكار لابن عبدالبر : ٢٨٦/٨)

٤٥) آپ ﷺ حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفن ہوئے۔
(الاستذكار لابن عبدالبر : ٢٨٧/٨)

٤٦) آپ ﷺ کی قبر کو بقصدِ تبرک مس کرنا اور چومنا درست نہیں۔
(الصارم المنكي لابن عبدالهادي : ٣٣٣)

٤٧) آپ ﷺ کی متروکہ اشیاء وراثت نہیں تھیں۔
(شرح صحیح البخاري لابن بطال : ٢٦٥/٥)

٤٨) آپ ﷺ وفات کے بعد اس دنیا میں تشریف نہیں لاتے۔
(مراتب الإجماع لابن حزم : ٢٧٢)

٤٩) روزِ قیامت آپ ﷺ کو حوض عطا کیا جائے گا۔
(التمهيد لابن عبدالبر : ٢٩١/٢)

٥٠) آپ ﷺ اہلِ کبائر کی شفاعت کریں گے۔
(التمهيد لابن عبدالبر : ٧٠/١٩)

انتقاء و ترتیب : عبدالعزيز ناصر

(نبی کریم ﷺ کی سیرت و خصائص سے متعلق دیگر کئی امور بھی محلِ اجماع ہیں۔ تفصیلی دراسہ کیلیے شيخ أحمد بن غانم الأسدي کی کتاب “الإمتاع بما تعلق بالنبي ﷺ من إجماع” کی طرف مراجعت فرمائیں۔)

یہ بھی پڑھیں: نماز کی اہمیت و ضرورت