سوال 7271

نماز کے بعد سجدہ میں چلے جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ایسا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

نماز سے ہٹ کر بھی صرف دعا کی غرض سے سجدہ کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ

بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کی رحمت کے بہت قریب ہوتا ہے، لہٰذا اس میں خوب دعا کرو
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 1183]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ دعا کی قبولیت کے خاص مواقع میں سے ہے، جہاں بندہ اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے، لہٰذا نماز کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کر کے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعائیں مانگی جاسکتی ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم نے اپنے زاویے سے جواب دیا ہے اور اچھا جواب دیا ہے۔ البتہ ہماری دانست میں محدود معلومات میں یہ جو حدیث ہے اس کا تعلق نماز کے ساتھ ہی ہے۔ حالت نماز میں انسان جب سجدہ کرتا ہے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ تو وہ “اکثروا فیہ الدعاء” اس میں وہ دعا زیادہ کرے۔ یہ ایک باقاعدہ عمل ہے کہ نماز کے بعد سجدے میں گر جانا۔ اور اگر یہ عمل اسی طرح ہوتا تو منقول تو ہوتا۔ صحابہ کرام، تابعین، ائمہ کرام ہم سے زیادہ اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے، لگاؤ رکھتے تھے۔ اللہ کا قرب چاہتے تھے۔ یہ بعد کے لوگوں کا اور بے علم لوگوں کا ایک اختیار کردہ عمل ہے کہ وہ نماز کے بعد دوبارہ سجدے میں گر جاتے ہیں۔ بھائی سجدے میں پھر آپ کیا کر رہے تھے؟ جب آپ کو دوبارہ سجدے میں گر کے مانگنا تھا تو پھر سجدے میں آپ کیا کر رہے تھے؟ تو یہ غیر ضروری سجدہ ہے کسی نے کر لیا ہم کوئی فتویٰ نہیں لگا سکتے لیکن اس کو عادت نہ بنائیں کہ باقاعدہ اس کی پھر دلیل ڈھونڈنی پڑے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ