سوال 7278
السلام علیکم ورحمۃ اللہِ وبرکاتہ
کیا ایسی کوئی صحیح حدیث موجود ہے، جس میں قسطنطنیہ کو فتح کرنے پر جنت کی بشارت دی گئی ہو؟
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والاخرہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته واضح اور صریح الفاظ میں فتح کرنے والے کیلئے جنت کی بشارت کے الفاظ تو نہیں، البتہ صحیح البخاري میں پہلا جیش جو غزوہ ل، چڑھائی کرے گا ان کے لیے یہ الفاظ ہیں:
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہوگی۔ [صحیح البخاري حدیث نمبر: 2924]
حدیث کے الفاظ “مغفور لھم” سے ائمہ نے جنت کا استدلال کیا ہے۔
وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ غَزَا مَدِينَةَ قَيْصَرَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَمَعَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ سَادَاتِ الصَّحَابَةِ، كَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَتُوُفِّيَ بِهَا سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَخَمْسِينَ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَاسْتَدَلَّ بِهِ الْمُهَلَّبُ عَلَى ثُبُوتِ خِلَافَةِ يَزِيدَ، وَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛ لِدُخُولِهِ فِي عُمُومِ قَوْلِهِ: مَغْفُورٌ لَهُمْ
“اور قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر سب سے پہلے چڑھائی کرنے والا یزید بن معاویہ تھا۔ اس کے ساتھ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بھی تھی، جیسے سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اسی (قسطنطنیہ) میں 52 ہجری میں وفات پا گئے۔
امام مہلب نے اس حدیث سے یزید کی خلافت کے ثبوت پر بھی استدلال کیا، اور یہ بھی کہا کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہے، کیونکہ وہ نبی ﷺ کے اس عمومی فرمان “ان (پہلے لشکر والوں) کی مغفرت کر دی جائے گی” میں داخل ہے۔”
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري : 104/5]
نواب صدیق حسن خان رحمه الله فرماتے ہیں:
استدل به على خلافة يزيد ، وانه من اهل الجنة
اس حدیث سے یزید کی خلافت پر استدلال کیا گیا ہے اور اس بات پر کہ یزید اہل جنت میں سے ہے۔
[عون الباري لحال ادلة البخاري : 391/4]
فائدہ:
حضرت بشر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ
عنقریب قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا، اس کا امیر کیا خوب ہوگا اور وہ لشکر کیسا بہترین ہوگا
[تاریخ الکبیر للبخاري : 1760 ، مسند احمد : 18957]
اس حدیث کو امام ابن عبد البر نے حسن قرار دیا ہے۔
[الاستيعاب في معرفة الأصحاب : 1/250]
امام بوصيري رحمه الله نے اس روایت کے تمام رواۃ کو ثقه قرار دیا ہے۔
[إتحاف الخيرة المهرة : 106/8]
امام حاکم نے اس روایت کو بُخاری مسلم کی شرط پر “صحیح الاسناد” قرار دیا ہے۔
[المستدرك على الصحيحين : 8505]
یہ روایت “فاتح قسطنطنیہ” کی فضیلت ظاہر کرتی ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



