سوال 7292

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرا سوال ہے کہ گناہ کا علم بھی ہے ڈر بھی لگتا ہے، انجام بد اور آخرت کے عذاب سےبچنے کی کوشش بھی ہے لیکن نفس امارہ کا غلبہ نہیں ختم ہوتا کوئی اس کا حل بتادیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته گناہ پر شرمندگی، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف، اور گناہ سے بچنے کی خواہش ہے۔ اصل خطرہ اس شخص کے لیے ہے جو گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھے یا اس پر نادم نہ ہو، گناہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے انسان کی فطرت ہے لیکن گناہ پر ڈٹ جانا یا اس کو گناہ نا سمجھنا اصل تباہی ہے اللہ رب العزت کا فرمان ہے

وَالَّذِيۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِهِمۡ

ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے جب کہ وہ جانتے ہوں ۔
[سورۃ آل عمران آیت نمبر : 135]
اصرار کا مطلب یہ ہے کہ انسان گناہ پر نادم نہ ہو اور دوبارہ اسے کرنے کی نیت رکھے، جبکہ صرف زبان سے استغفار کرتا رہے ایسا استغفار خود استغفار کے قابل ہوتا ہے حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان دل سے پکا ارادہ کرے کہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا اگر کمزوری کی وجہ سے پھر گناہ ہو بھی جائے تو پریشان ہونے کے بجائے فوراً اللہ سے سچے دل کے ساتھ استغفار کرے اور خالص نیت سے توبہ کرے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا: اے میرے رب! میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔اللہ رب العزت نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے دوبارہ گناہ کر لیا،اسے بھی بخش دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے،میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا: اے میرے رب! میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔تین مرتبہ،پس اب جو چاہے عمل کرے
[صحیح البخاری حدیث نمبر: 7507]

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

توبہ صرف اس وقت کریں جب اپنے آپ میں یہ یقین ہو جائے کہ اب مجھے اس گناہ کو دہرانا نہیں ہے ورنہ گناہ توبہ گناہ توبہ کا چکر ایک obsession بن جاتا ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ

توبہ کریں اور سچے دل سے کریں دوبارہ گناہ ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجائے فورا دوبارہ توبہ کریں توبہ کرنا ضروری ہے اور اسے جلدی کرنا بھی ضروری ہے توبہ سے بھی دل کی اصلاح ہوتی ہے نفس کا غلبہ ختم ہوتا ہے۔
استغفار کثرت سے پڑھیں، لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھیں، نماز کو اول وقت باجماعت پڑھنے کا اہتمام کریں
جتنا ممکن ہوسکے قرآن کی تلاوت کرلیا کریں روزانہ کی بنیاد پر ایکٹو داعی بننے کی کوشش کریں یعنی حسب استطاعت نیکی کے کاموں میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔
علم دین سے وابستہ رہنے کی کوشش کریں روزانہ کی بنیاد پر کوئی ایکٹیوٹی علم دین کی ضرور ہونی چاہیے اچھے لوگوں کی مجلس کو اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ ان میں سے جو کام آپ آسانی سے کرسکتے ہیں ان سے آغاز کردیں باقی آہستہ آہستہ شامل کرتے جائیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں نفس پر فورا قابو پا لینا بسا اوقات بہت مشکل ہوتا ہے
یہ ایک مسلسل مجاہدہ ہے اس لیے ہمت نہ ہاریں۔
اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں بار بار توبہ کریں اور اپنی کوشش جاری رکھیں ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے نفس پر قابو پانا آسان فرما دے گا۔ اللہ ہمیں نفس کے شر سے محفوظ فرمائے

فضیلۃ العالم محمد علی حفظہ اللہ