سوال 7276
ایک شخص نے اپنی زوجہ کا حق مہر ادا کیا، بلکہ اسی حق مہر کی رقم سے ایک جانور خرید لیا۔ بیوی نے زبانی اجازت دے دی تھی کہ “اس رقم سے جانور لے لیں”۔
بعد میں وہ جانور بڑا ہوا تو سسر صاحب نے اسے بیوی کی اجازت سے فروخت کر دیا، اور حاصل ہونے والی رقم میں سے کچھ حصہ اپنے ذاتی استعمال میں لے لیا، اور کچھ حصہ داماد یعنی شوہر نے اپنے اوپر خرچ کر لیا۔
1. حق مہر کی رقم سے خریدا گیا جانور شرعاً کس کی ملکیت شمار ہوگا؟
2. سسر کا بیوی کی اجازت کے بغیر جانور فروخت کرنا اور رقم استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا غصب/حرام ہے؟
3. شوہر کا اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
4. اب اس صورت میں بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ کیا پورا حق مہر + جانور کی قیمت واپس کرنا لازم ہے یا صرف اصل حق مہر؟
براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل جواب ارشاد فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو حق مہر ہے، وہ بیوی کی ملکیت ہوتا ہے۔ لہٰذا حق مہر کی رقم سے خریدا گیا جانور بھی بیوی ہی کی ملکیت شمار ہوگا۔
آپ کے سوال کے مطابق، حق مہر کی رقم سے خریدا گیا جانور کس کی ملکیت ہوگا؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ وہ بیوی کی ملکیت ہوگا۔
دوسرا سوال سسر کے اپنی بہو کی اجازت کے بغیر جانور فروخت کرنے سے متعلق ہے۔ البتہ سوال میں اوپر یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جانور بہو کی اجازت سے فروخت کیا گیا تھا۔ بہرحال، اگر بہو کی اجازت سے فروخت کیا گیا ہے تو یہ جائز ہے، لیکن اگر اس کی اجازت کے بغیر فروخت کیا گیا ہے تو یہ جائز نہیں، اور اس رقم کا استعمال بھی درست نہیں۔ حتیٰ کہ شوہر بھی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے حق مہر کی رقم اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتا۔
آگے یہ سوال ہے کہ اس صورت میں بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ کیا پورا حق مہر اور جانور کی قیمت واپس کرنا لازم ہے یا صرف اصل حق مہر؟
اس میں کچھ تفصیل ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ حق مہر کی رقم بیوی سے کس حیثیت سے لی گئی تھی۔ اگر وہ رقم بطور قرض (ادھار) لی گئی تھی تو پھر معاملہ بالکل واضح ہے۔ جتنی رقم حق مہر کی تھی، اتنی ہی رقم واپس کرنا لازم ہوگی۔ اگر جانور کی قیمت کم یا زیادہ ہو گئی ہو تو اس سے بیوی کا تعلق نہیں۔ اسے اپنے اصل حق مہر کی رقم واپس ملے گی۔
لیکن اگر ابتدا ہی سے یہ طے تھا کہ اس رقم سے کاروبار کیا جائے گا، مثلاً جانور خریدا جائے گا تاکہ اس سے منافع حاصل ہو، تو پھر صورت مختلف ہوگی۔ اگرچہ اصل سرمایہ بیوی کا تھا، لیکن جانور خریدنا، اس کی دیکھ بھال کرنا، اس کی پرورش، خرید و فروخت اور دیگر معاملات بھی ایک محنت اور عمل ہے، جو عورت نے خود انجام نہیں دیا۔
اس لیے اگر شروع میں شراکت کی کوئی شرط طے کی گئی تھی تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی شرط طے نہیں ہوئی تھی تو اب باہمی رضامندی سے یہ طے کر لیا جائے کہ سرمایہ بیوی کا تھا اور محنت شوہر، سسر یا جس نے کاروبار کیا اس کی تھی، لہٰذا منافع اسی تناسب سے تقسیم کر لیا جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ دو ہی صورتیں ہیں: اگر رقم بطور قرض لی گئی تھی تو صرف اصل حق مہر کی رقم واپس کی جائے گی۔ اور اگر کاروبار یا شراکت کی نیت سے لی گئی تھی تو شراکت کے اصولوں یا باہمی رضامندی کے مطابق منافع تقسیم کیا جائے گا، جبکہ اصل سرمایہ بیوی کا حق تسلیم کیا جائے گا۔
بارک اللہ فیکم۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ



