سوال 7209
السلام علیکم، شیوخ کرام اس بات کی وضاحت اور حقیقت مطلوب ہے۔ ملا علی قاریؒ المرقاۃ میں لکھتے ہیں: “وذكر غيره أن صورة قبر إسماعيل- عليه السلام – في الحجر تحت الميزاب، وأن في الحطيم بين الحجر الأسود وزمزم قبر سبعين نبيا”۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہماری معلومات کے مطابق اس میں سے کوئی بات بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی سند کے اعتبار سے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ہمارے نزدیک ایک مختصر کتاب قابل مطالعہ ہے اس کتاب کا ترجمہ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے فرمایا تھا محمد بن ابراہیم آل الشیخ کی غالباً کتاب ہے ” اسلام میں قبہ (گنبد) اور مزارات کی تعمیر ایک شرعی جائزہ” دارالسلام سے طبع شدہ ہے شاید ڈھونڈنی پڑے گی کتاب موجود ہے اس کو دیکھا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصرحفظہ اللہ




