سوال 7260

فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً قَالَ لَهُ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَ الْأَسَدِيُّ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ۔۔۔۔الخ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ اس حدیث کا حکم بتا دیں اور کیا اس حدیث سے حضرت معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی تنقیص ہوتی ہے، کیونکہ جن چیزوں سے نبی مکرم حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا وہ چیزیں ان کے گھر میں پائی جاتی تھی؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سند کی بحث سے ہٹ کر متن میں نکارت ہے۔ البتہ جلود السباع والرکوب علیھا کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔
رہا مسئلہ بقیہ عن بحیر کی روایت کا تو یہ قابل حجت ہے، الا کہ کوئی قرینہ و دلیل نکارت و غیر محفوظ ہونے پر موجود ہو تو تب منکر و ضعیف ہو گی، شیخ امن پوری صاحب نے من شاب شيبة في الإسلام ۔۔۔۔روایت کو جمع اسانید کے ساتھ ضعیف کہا تھا تو تب میں نے انہیں پرسنل میں جو بعض روایتیں بھیجیں، ان میں ایک روایت بقیہ عن بحیر کے طریق سے تھی
بقیہ کی بحیر سے روایت قبول کیے جانے پر میری تصریح
بقیہ عن بحیر روایت:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﻲ ﻳﻘﻮﻝ: ﺑﻘﻴﺔ ﺇﺫا ﺣﺪﺙ ﻋﻦ ﻗﻮﻡ ﻟﻴﺴﻮا ﺑﻤﻌﺮﻭﻓﻴﻦ ﻓﻼ ﺗﻘﺒﻠﻮﻩ، ﻭﺇﺫا ﺣﺪﺙ ﺑﻘﻴﺔ ﻋﻦ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﻴﻦ، ﻣﺜﻞ ﺑﺤﻴﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻗﺒﻞ
الضعفاء الكبير للعقيلى :1/ 162 سنده صحيح
ﻗﻠﺖ ﻷﺣﻤﺪ ﺑﺤﻴﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻗﺎﻝ ﺛﻘﺔ ﻭﺯﻋﻤﻮا ﺃﻥ ﺷﻌﺒﺔ ﻗﺎﻝ ﻟﺒﻘﻴﺔ اﻛﺘﺐ ﺇﻟﻲ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﺑﺤﻴﺮ ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﻌﺠﺒﻪ اﻹﺳﻨﺎﺩ
سؤالات أبى داود :(287)
بحیر کی  خالد بن معدان سے روایت أصح ہوتی ہے
امام أثرم نے کہا:
ﻗﻠﺖ ﻷﺑﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ: ﺃﻳﻤﺎ ﺃﺻﺢ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪاﻥ، ﺛﻮﺭ ﺃﻭ ﺑﺤﻴﺮ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ؟ ﻓﻘﺪﻡ ﺑﺤﻴﺮا ﻋﻠﻴﻪ
سؤالات الأثرم:(71)،الجرح والتعديل :2/ 412

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ