سوال 7285
شیخ محترم جو خواب آنا یا چور کا چہرہ نظر آنا وغیرہ یا چیز کا گم ہونے کی صورت میں استخارہ ان میں کتنی صداقت ہے؟
جواب
عام لوگ سمجھتے ہیں کہ استخارے کے بعد سونا چاہیے، نیند میں صحیح راستہ نظر آئے گا، مگر ایسا عمل کسی حدیث میں ذکر نہیں اور نہ کسی میں خواب کا ذکر ہے۔ اسی طرح چوری تلاش کرنے کے لیے استخارے کرنا قرآن وسنت سے خارج بات ہے۔ اس قسم کے کسی استخارے کو حقیقت سمجھنا بھی بے بنیاد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے معاملات میں تحقیقات کی ضرورت پڑی مگر آپ نے ایسے استخارے نہیں کیے بلکہ شواہد کی مدد سے تحقیق فرمائی، لہٰذا ایسے استخارے ڈھونگ اور بے بنیاد ہیں۔ ان سے جائز بدگمانیاں اور باہمی فساد پیدا ہوتا ہے۔ استخارے کے بعد خواب آنا شرط نہیں بلکہ کام کا انتظام کرنا چاہیے۔ اگر بہتر ہوگا تو خیریت سے مکمل ہوجائے گا۔ ورنہ کوئی رکاوٹ آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا اس انداز سے مکمل ہونا میرے حق میں بہتر نہیں۔ اسی طرح اگر استخارے کے بعد اس کام پر دل مطمئن ہوجائے۔ تو وہ کام کرلیا جائے ورنہ چھوڑ دیا جائے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



