سوال 7268

کیا جو بندہ اذان دیتا ہیں، اقامت بھی وہی کہے گا، اگر کوئی اور کہنا چاہے تو اجازت لے گا مؤذن سے اقامت کے لیے قرآن و سنت کے مطابق دلائل سے جواب درکار ہیں؟

جواب

بارک الله فیکم
عہد نبویہ میں مستقل مؤذن ہوتے تھے اور وہی اقامت کہتے تھے یہ ثابت نہیں کہ اذان کہنے والے کے علاوہ دوسرے نے اقامت کہی ہو۔ اذان و اقامت مؤذن کا حق ہے کیونکہ وہ اس کے ذمے ہے البتہ اس سے اجازت لے کر جس طرح اذان کہہ سکتے ہیں اسی طرح اقامت بھی کہہ سکتے ہیں جس طرح امام کی اجازت کے بغیر اس کی موجودگی میں مصلی امامت پر جماعت کے لئے کھڑے ہو جانا درست نہیں ایسے ہی اقامت بھی بلا اجازت درست عمل نہیں ہے بلکہ غیر اخلاقی حرکت ہے۔
البتہ اگر کبھی کوئی اقامت کہہ دے تو کفایت کر جائے گا۔
اس پیش کردہ حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اقامت مؤذن پی کا حق ہے اور وہی کہے گا۔
فائدہ:
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ اﻟﻘﻄﺎﻥ ﺑﺒﻐﺪاﺩ ﺃﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺩﺭﺳﺘﻮﻳﻪ ﺛﻨﺎ ﻳﻌﻘﻮﺏ ﺑﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺛﻨﺎ اﻟﺤﻤﻴﺪﻱ ﺛﻨﺎ ﺣﻔﺺ ﺑﻦ ﻏﻴﺎﺙ، ﺣﺪﺛﻨﻲ اﻟﺸﻴﺒﺎﻧﻲ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺑﻦ ﺭﻓﻴﻊ، ﻗﺎﻝ: ﺭﺃﻳﺖ ﺃﺑﺎ ﻣﺤﺬﻭﺭﺓ ﺟﺎء ﻭﻗﺪ ﺃﺫﻥ ﺇﻧﺴﺎﻥ ﻗﺒﻠﻪ ﻓﺄﺫﻥ ﺛﻢ ﺃﻗﺎﻡ
السنن الکبری للبیھقی:(1817) صحیح ﺑﺎﺏ اﻟﺮﺟﻞ ﻳﺆﺫﻥ ﻭﻳﻘﻴﻢ ﻏﻴﺮﻩ
یہ بیان جواز کے لئے ہے اسے عادت بنا لینا اور بلااجازت اقامت کہنا حسن اخلاق کے منافی ہے۔
نوٹ:
آپ نے سنن ابن ماجہ کا حوالہ لکھا ہے اور یہ حدیث صحیح البخاری :(603 ، 605 ، 606) میں کی جگہ پر موجود ہے اور صحیح مسلم سمیت کی کتب احادیث میں موجود ہے۔ اور اس حدیث میں صرف مسئلہ اذان و اقامت کا بیان ہے کہ اقامت کے الفاظ اکہرے کہنے ہیں۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ