سوال 7231

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الغنم من دواب الجنة، فامسحوا رغامها، وصلوا في مرابضها۔۔۔ اس روایت کا کیا حکم ہے؟

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس باب کی مرفوع روایات کمزور و معلول ہیں
تفصیل دیکھیے علل الحديث:2/ 292 ،293، 294 العلل للدارقطني :(1661)9/ 97 ،مسند أحمد بن حنبل :(9625) کی تعلیق میں
امام عقیلی نے کہا:
ﻓﺄﻣﺎ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ ﻣﺮاﺡ اﻟﻐﻨﻢ ﻓﻘﺪ ﺭﻭﻱ ﺑﺈﺳﻨﺎﺩ ﺟﻴﺪ. ﻓﺄﻣﺎ اﻟﻐﻨﻢ ﻣﻦ ﺩﻭاﺏ اﻟﺠﻨﺔ ﻓﻔﻴﻪ ﺭﻭاﻳﺔ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻫﺬا اﻟﻮﺟﻪ ﻓﻴﻬﺎ ﻟﻴﻦ.
الضعفاء الكبير للعقيلى:3/ 158
اس کو موقوفا ہونا ہی راجح ہے جیسا کہ امام بیھقی نے کہا::(4259) ،امام دارقطنی العلل للدارقطني ) اور موسوعہ حدیثیہ/ مسند أحمد بن حنبل کے محققین نے کہا حوالہ نمبر گزر چکا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا:
تو حدیث أبی ھریرۃ موقوف ہی راجح ہے اور جو روایت الکامل لابن عدی،سنن بیھقی میں ہے اسے شیخ البانى رحمة الله عليه کا حسن قرار دینا مرجوح ہے کثیر بن زید کثیر الخطاء مناکیر والا ہے ان سے پہلے امام عقیلی نے جو کہا کہ اس متعلق روایات لین،کمزور ہیں وہی راجح ہے اس جیسے راوی کی روایت عدم متابعت اور شاہد صحیح نہ ہونے کے سبب تفرد کے سبب قبول نہیں ہے۔
اسی طرح ائمہ علل اسے مرفوعا خطاء،اور غیر صائب قرار دیتے ہیں بلکہ امام ابن عدی نے اسے کثیر بن زید کی مناکیر میں ذکر کیا ہے
دیکھیے الكامل لابن عدي :7/ 205 ،207
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ