سوال 7281

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا شادی شدہ اور کمانے والے یتیم بہن بھائی کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته اگر تو وہ خود صاحب نصاب نہیں ہیں، تو انکو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، بھائی یا رشتے داروں کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَفِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَفِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
[سورۃ التوبہ آیت نمبر : 60]
مذکورہ آیت مصارف میں سے یہ مساکین کی صورت ہے، کیونکہ مسکین اس کو کہتے ہیں جس کے پاس کمانے کے ذرائع ہوں، مگر وہ ان ذرائع سے اپنی ضرویات بھی پوری نہیں کر پارہا جیسے اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

اَمَّا السَّفِيۡنَةُ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِى الۡبَحۡرِ

رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی، جو دریا میں کام کرتے تھے،
[سورۃ الکہف آیت نمبر : 79]
مفسر قرآن شیخ عبدالسلام بن محمد رحمه الله اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہو، یعنی وہ ضرورت مند لوگ جو نہ مانگتے ہیں اور نہ کسی کو ان کی حالت کی خبر ہوتی ہے کہ ان پر صدقہ کریں۔
[تفسیر القران الکریم الکہف : 79]
نیز رشتے داروں پر خرچ کرنے کا دوہرا اجر ہے۔
حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین کو صدقہ دینا صدقہ ہے، اور رشتے داروں کو (صدقہ دینا) دو نیکیاں ہیں: صدقہ بھی، اور صلہ رحمی بھی۔“
[سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1844]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ