سوال 7273
السلام علیکم و رحمۃ اللہِ وبرکاتہ
کیا تیراکی کرنا سنت ہے؟
ایسی کوئی حدیث ہے جس میں تیراکی کا حکم دیا گیا ہو؟ جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والاخرۃ
جواب
تیراکی کے بارے میں یہ ہے کہ:
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : ( ہر وہ چیز جس کا تعلق ذکر الہی سے نہیں ہے تو وہ “لعب ” ہے۔ سوائے چار چیزوں کے: خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، گھوڑے کے مالک کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، آدمی کا دو نشانوں کے درمیان دوڑ لگانا، اور آدمی کا تیرا کی سیکھنا ) اس حدیث کو نسائی رحمہ اللہ نے “السنن الکبری ” (8889) میں روایت کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ صحیحہ: (315) میں صحیح قرار دیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



