سوال 7264
گستاخ صحابہ پر لعنت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِى فَقُولُوا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ
جب تم لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام کو برا بھلا کہتے ہیں تو تم کہو: تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو۔
[ترمذی، حدیث نمبر: 3866]
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
روایت ضعیف جدا ہے، مگر دیگر ادلہ شرعیہ کی روشنی میں صحابہ کرام پر طعن وگالی کا معاملہ نہایت سنگین جرم ہے اور نفاق سے ہے۔
سلف صالحین ایسے شخص کو گمراہ سمجھتے تھے اور اسلام سے خارج خیال کرتے تھے.
کبار سلف صالحین کی تصریحات ملاحظہ کریں:
صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین پر طعن وشتم کرنا کبیرہ گناہ ہے اور ایسا کرنے والا فاسق ومنافق ہے کیونکہ یہ کام وہی کرتا ہے جس کے دل میں ایمان نہیں ہے ۔
اس مسئلہ پر سلف صالحین کے اقوال پیش خدمت ہیں:
((سلف صالحین کے نزدیک صحابہ کرام پر طعن وجرح کرنے والے کون))
سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کا موقف:
(1) ﻭاﻟﺬﻱ ﻓﻠﻖ اﻟﺤﺒﺔ , ﻭﺑﺮﺃ اﻟﻨﺴﻤﺔ , ﻻ ﻳﺤﺒﻬﻤﺎ ﺇﻻ ﻣﺆﻣﻦ ﻓﺎﺿﻞ , ﻭﻻ ﻳﺒﻐﻀﻬﻤﺎ ﻭﻳﺨﺎﻟﻔﻬﻤﺎ ﺇﻻ ﺷﻘﻲ ﻣﺎﺭﻕ , ﻓﺤﺒﻬﻤﺎ ﻗﺮﺑﺔ , ﻭﺑﻐﻀﻬﻤﺎ ﻣﺮﻭﻕ , ﻣﺎ ﺑﺎﻝ ﺃﻗﻮاﻡ ﻳﺬﻛﺮﻭﻥ ﺃﺧﻮﻱ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ , ﻭﻭﺯﻳﺮﻳﻪ , ﻭﺻﺎﺣﺒﻴﻪ ﻭﺳﻴﺪﻱ ﻗﺮﻳﺶ , ﻭﺃﺑﻮﻱ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ؟ ﻓﺄﻧﺎ ﺑﺮﻱء ﻣﻤﻦ ﻳﺬﻛﺮﻫﻤﺎ , ﻭﻋﻠﻴﻪ ﻣﻌﺎﻗﺐ
سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ان دونوں سے صرف وہی محبت کرے گا جو فاضل مومن ہو گا اور ان دونوں سے صرف وہی بغض رکھے گا اور مخالفت کرے گا جو بدبخت اور مارق (یعنی جو اسلام سے خارج) ہو گا کیونکہ ان دونوں سے محبت کرنا قرب الہی کا ذریعہ ہے اور ان دونوں سے بغض رکھنا دین اسلام سے خارج ہونے کی علامت ہے۔
ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو رسول الله صلى الله عليه وسلم کے دو بھائیوں ،دو وزیروں ،دو ساتھیوں ،دو سرداروں ،اور مسلمانوں کے دو باپوں کو نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں ( سن لو) میں ایسے (بدبخت وگستاخ) لوگوں سے بری اور لا تعلق ہوں جو ان دونوں کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں میں اس پر انہیں ضرور سزا دوں گا۔
حلية الأولياء لأبي نعيم :7/ 201،أسد الغابة لابن أثير:4/ 156 سنده حسن لذاته
(2)أﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﺖ ﻷﺑﻲ: ﻣﻦ اﻟﺮاﻓﻀﺔ؟ ﻗﺎﻝ: اﻟﺬﻱ ﻳﺸﺘﻢ ﻭﻳﺴﺐ ﺃﺑﺎ ﺑﻜﺮ ﻭﻋﻤﺮ ﺭﺣﻤﻬﻤﺎ اﻟﻠﻪ۔
امام عبد الله بن أحمد رحمة الله تعالى کہتے ہیں میں نے اپنے والد محترم (امام احمد بن حنبل رحمه الله) سے پوچھا روافض کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جو ابوبکر وعمر رحمہما الله کو گالی دیتا ھے وہ رافضی ھے
( السنة للخلال:(777) سنده صحيح ۔)
(3) أﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﻗﺎﻝ: ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﻲ ﻋﻦ ﺭﺟﻞ ﺷﺘﻢ ﺭﺟﻼ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﺃﺭاﻩ ﻋﻠﻰ اﻹﺳﻼﻡ۔
امام عبد الله بن أحمد رحمه الله تعالى کہتے ہیں میں نے اپنے والد( احمد بن حنبل رحمه الله تعالى )سے پوچھا جو شخص کسی بھی صحابی کو گالی دیتا ھے اس کے متعلق آپکی کیا رائے ھے ؟ تو امام صاحب نے فرمایا: میں ایسے شخص کو اسلام پر نہیں سمجھتا ۔
(السنة للخلال:(782) سنده صحيح ۔)
(4) وﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺤﻤﻴﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﺷﺘﻢ ﺃﺧﺎﻑ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻜﻔﺮ ﻣﺜﻞ اﻟﺮﻭاﻓﺾ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﺷﺘﻢ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻻ ﻧﺄﻣﻦ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻗﺪ ﻣﺮﻕ ﻋﻦ اﻟﺪﻳﻦ۔
امام أبو عبدالله( أحمد بن حنبل رحمه الله) فرماتے ہیں: جو شخص گالیاں دیتا ھے مجھے روافض کی مثل اس پر کفر کا خوف ھے پھر فرماتے ہیں جو شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ رضوان الله علیهم اجمعین کو گالیاں دیتا ھے مجھے ڈر ھے کہ وہ دین اسلام سے خارج ھو گیا ھو ۔
(السنة للخلال:(780) سنده صحيح )
(5) أﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻟﻤﺮﻭزﻱ، ﻗﺎﻝ: ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻦ ﻣﻦ ﻳﺸﺘﻢ ﺃﺑﺎ ﺑﻜﺮ ﻭﻋﻤﺮ ﻭﻋﺎﺋﺸﺔ؟ ﻗﺎﻝ: ﻣﺎ ﺃﺭﺁﻩ ﻋﻠﻰ اﻹﺳﻼﻡ، ﻗﺎﻝ: ﻭﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻳﻘﻮﻝ: ﻗﺎﻝ ﻣﺎﻟﻚ: اﻟﺬﻱ ﻳﺸﺘﻢ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻴﺲ ﻟﻪ ﺳﻬﻢ، ﺃﻭ ﻗﺎﻝ: ﻧﺼﻴﺐ ﻓﻲ اﻹﺳﻼﻡ۔
ابوبکر المروزی رحمه الله فرماتے ہیں میں نے أبو عبدالله أحمد بن حنبل رحمه الله سے پوچھا کہ جو شخص سیدنا ابوبکر وعمر اور عائشہ صدیقہ رضی الله عنهم کو گلی دیتا ھے اسکا کیا حکم ھے ؟ تو آپ نے جواب دیا : میں اس کو اسلام پر نہی سمجھتا ۔ ابوبکر المروزی رحمه الله فرماتے ہیں اور میں نے امام احمد بن حنبل رحمه الله سے سنا وہ کہتے ہیں امام مالک رحمه الله نے فرمایا: جو شخص کسی بھی صحابی کو گالی دیتا ھے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہی ہے ۔
( السنة للخلال :(779) سنده صحيح )
امام جعفر بن محمد الصادق رحمه الله فرماتے :
برئ الله ممن تبرأ من أبی بکر و عمر۔
جو شخص ابو بکر عمر رضی الله عنھما سے بری ہے الله تعالی اس سے بری ہیں ( یعنی ایسے خبثیث لوگ بدترین لوگ ہیں جو الله کی رضا و رحمت سے محروم ہیں)
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:143 سندہ صحیح فضائل الصحابة للدارقطنی:(63،64) سندہ حسن لذاته، امالی للمحاملی:(229) سندہ حسن لذاته
ایک بندہ مسلم کبھی بھی صحابہ پر طعن یا ان کو گالی نہیں دے سکتا ہے یہ بری ترین حرکت وہی کرے گا جس کا دل ایمان وتقوی سے خالی ہے
صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین پر طعن وجرح کرنا درحقیقت دین اسلام پر طعن وجرح کرنا اور الله تعالى کی طرف سے صحابہ کی بیان کردہ شان وعظمت کا انکار ہے۔
منکرین صحابہ کرام در حقیقت منکرین اسلام ،منکرین قرآن وحدیث اور منکرین ختم نبوت ہیں کیونکہ اس سب کے گواہ اور ترجمان صرف صحابہ ہیں ۔
باقی کسی کی معین تکفیر ادلہ وقرائن کی روشنی میں کی جاتی ہے ۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم أبو انس طيبى حفظہ اللہ




