خلاصہ مجلس
الحمدللہ لاہور کی علمی فضاؤں میں الوفاء للتربية والتعليم کے زیرِ اہتمام اللقاء الشهری العلمي کی چھبیسویں مجلس منعقد ہوئی جہاں پر طلبہ نے اہلِ علم کی صحبت میں بیٹھ کر علم کے موتی سمیٹے۔
اس بابرکت نشست میں فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ نے شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کے رسالے «الدماء الطبيعية للنساء» کی تدریس فرمائی۔ عصر سے عشاء تک جاری رہنے والی اس مجلس میں کتاب کے اہم مباحث اور علمی نکات سے بھرپور استفادہ کا موقع ملا۔
اسی علمی مجلس کے اہم مباحث کو محفوظ رکھنے اور احباب کے استفادے کے لیے اس نشست کا ایک مختصر خلاصہ بھی مرتب کیا گیا ہے تاکہ مجلس میں پیش کیے گئے علمی نکات کا اجمالی تعارف سامنے آ سکے۔
دعا: اللہ تعالیٰ اس علم افروز سلسلے کو قبول فرمائے، اس کی برکتیں عام کرے اور اسے طلبہ کے لیے علم، عمل اور خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
یہ کتاب عورتوں سے متعلق حیض، استحاضہ اور نفاس کے شرعی احکام پر مشتمل ایک اہم رسالہ ہے جس میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے قرآن و سنت اور اقوالِ اہلِ علم کی روشنی میں ان مسائل کو واضح کیا ہے۔
خلاصہ کتاب
1️⃣ حیض کا مفہوم اور حکمت
حیض وہ طبعی خون ہے جو عورت کے رحم سے بیماری، زخم یا ولادت کے بغیر خارج ہوتا ہے۔ اس کی اصل حکمت جنین کی غذا سے متعلق ہے حمل کے دوران یہی خون جنین کی نشوونما میں صرف ہوتا ہے اسی لیے عموماً حمل کے ساتھ حیض رک جاتا ہے۔
2️⃣ حیض کی عمر اور مدت
مصنف کے نزدیک حیض کے آغاز یا اختتام کے لیے شریعت نے کوئی قطعی عمر مقرر نہیں کی۔ اسی طرح حیض کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت بھی کسی صحیح نص سے متعین نہیں۔ اصل اعتبار خون کے وجود اور اس کی علامات کا ہے جب حیض کا خون موجود ہو تو عورت حائضہ اور جب طہر حاصل ہوجائے تو پاک شمار ہوگی۔
حاملہ عورت کو بھی اگر حیض کی صفات کے مطابق خون آئے تو اسے حیض قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ حاملہ کے حیض کو منع کرنے والی کوئی صریح شرعی دلیل موجود نہیں۔
3️⃣ حیض کی غیر معمولی صورتیں
حیض کبھی معمول سے زیادہ یا کم وقت سے پہلے یا بعد میں آسکتا ہے۔ اسی طرح زرد یا گدلا خون بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ اگر صفرہ و کدرہ حیض کے دوران یا طہر سے پہلے متصل ہو تو حیض شمار ہوگا جبکہ طہر کے بعد ظاہر ہونے والی ایسی رطوبت کا اعتبار نہیں۔
کبھی خون رک رک کر بھی آتا ہے اس صورت میں خون اور درمیان کے وقفوں کا حکم عورت کی مجموعی حالت اور شرعی اصولوں کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
4️⃣ حیض کے اہم احکام
حیض کی حالت میں عورت:
۔ نماز ادا نہیں کرے گی اور بعد میں ان نمازوں کی قضا بھی نہیں۔
– روزہ نہیں رکھے گی البتہ رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا کرے گی۔
– بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی تاہم حج کے دیگر مناسک ادا کرسکتی ہے۔
– طوافِ وداع اس سے ساقط ہوجاتا ہے۔
– مسجد میں ٹھہرنے سے اجتناب کرے گی۔
– شوہر سے جماع کرنا حرام ہے البتہ جماع کے علاوہ جائز قربت کی گنجائش ہے۔
– حیض کی حالت میں طلاق دینا اصلًا ممنوع ہےالبتہ بعض مخصوص صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔
– پاک ہونے کے بعد غسل کرنا ضروری ہے۔
ذکر، دعا، تسبیح اور دیگر دینی اعمال کی گنجائش ہے جبکہ قرآن کی زبانی تلاوت کے مسئلے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔
5️⃣ استحاضہ
استحاضہ وہ خون ہے جو حیض کے علاوہ غیر معمولی طور پر جاری رہتا ہے۔ مستحاضہ عورت طاہرہ کے حکم میں ہے اس لیے وہ نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرے گی۔
مستحاضہ عورت کی تین بنیادی حالتیں ہیں:
1. سابقہ عادت معلوم ہو: اپنی سابقہ عادت کے مطابق حیض کے دن شمار کرے گی۔
2. عادت معلوم نہ ہو مگر خون کی صفات میں فرق ہو: ممتاز خون کو حیض اور باقی کو استحاضہ قرار دے گی۔
3. نہ عادت معلوم ہو نہ تمییز: عام عورتوں کی عادت کے مطابق چھ یا سات دن حیض شمار کرے گی۔
استحاضہ کی حالت میں نماز کے لیے وضو، خون کو حتی الامکان روکنے کی تدبیر اور صفائی کا اہتمام کیا جائے گا۔ شوہر سے جماع بھی راجح قول کے مطابق جائز ہے۔
6️⃣ نفاس
نفاس وہ خون ہے جو ولادت کے سبب خارج ہوتا ہے اور دردِ زہ کے ساتھ ولادت سے کچھ پہلے آنے والا خون بھی نفاس کے حکم میں آسکتا ہے۔
نفاس کی بھی کوئی قطعی زیادہ سے زیادہ مدت ثابت نہیں اگرچہ چالیس دن اکثر عورتوں کی معمول کی مدت ہے۔ خون رکنے پر عورت غسل کرکے نماز، روزہ اور دیگر عبادات شروع کرے گی۔
اگر سقط کے وقت انسانی خِلقت ظاہر نہ ہوئی ہو تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس نہیں بلکہ استحاضہ کے حکم میں ہوگا۔
♻️ نفاس اور حیض میں فرق
حیض اور نفاس کے اکثر احکام یکساں ہیں تاہم عدت، ایلاء، بلوغت اور خون کے دوبارہ آنے کی بعض صورتوں میں دونوں کے احکام مختلف ہوسکتے ہیں۔
7️⃣ حیض روکنے اور لانے والی ادویات
حیض روکنے یا لانے والی ادویات کا استعمال اس وقت جائز ہوسکتا ہے جب اس سے صحت کو نقصان نہ ہو اور جہاں شوہر کے حق سے تعلق ہو وہاں اس کی اجازت بھی حاصل ہو۔ بلا ضرورت فطری نظام میں تبدیلی سے اجتناب بہتر ہے۔
8️⃣ حمل روکنے اور ساقط کرنے کا حکم
عارضی طور پر حمل میں وقفہ رکھنا ضرورت اور مصلحت کی بنا پر جائز ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس میں نقصان نہ ہو اور شوہر کی رضامندی ہو۔ مستقل طور پر نسل بندی کرنا بلا ضرورت درست نہیں۔
حمل ساقط کرنے کا حکم حمل کے مرحلے کے اعتبار سے مختلف ہے۔ روح پھونکے جانے کے بعد بلا شرعی ضرورت اسقاط حرام ہے جبکہ اس سے پہلے اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے۔ مصنف نے اصل احتیاط اسقاط سے اجتناب میں قرار دی ہے البتہ معتبر ضرورت کی صورت میں ابتدائی مرحلے میں گنجائش ذکر کی ہے۔
9️⃣ آخری اور بنیادی نصیحت
کتاب کا اختتام فتویٰ دینے کی ذمہ داری اور تقویٰ کی اہمیت پر ہوتا ہے۔ مفتی کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھے اخلاص کے ساتھ کام کرے، قرآن و سنت کی طرف رجوع کرے، دلائل کا گہرا مطالعہ کرے اور جلد بازی سے فتویٰ دینے سے بچے۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




