سوال 7283
مانع الزکوۃ یوم القیامۃ فی النار
المعجم الصغیر للطبرانی 935
کیا یہ حدیث ٹھیک ہے؟
جواب
امام طبرانی رحمہ اللہ نے یہ روایت اس سند سے بیان کیا ہے۔
حدثنا محمد بن احمد بن ابي يوسف الخلال المصري ، حدثنا بحر بن نصر الخولاني ، حدثنا اشهب بن عبد العزيز ، حدثنا الليث بن سعد ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن سعد بن سنان ، عن انس بن مالك ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
یہ روایت صحیح نہیں، سعد بن سنان اگرچہ صدوق راوی ہیں لیکن یزید بن ابی حبیب سے انکی روایت منکر ہوتی ہے
حدثنا محمد بن عيسى قال: سمعت محمد بن علي الوراق قال: سمعت أحمد بن حنبل، يقول في أحاديث يزيد بن أبي حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس قال: روى خمسة عشر حديثا، منكرة كلها، ما أعرف منها واحدا
محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن علی الورّاق کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام احمد بن حنبل کو یزید بن ابی حبیب کی، سعد بن سنان کے واسطے سے حضرت انسؓ کی روایات کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا
اس نے اس سند سے پندرہ احادیث روایت کی ہیں، اور وہ سب کی سب منکر ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث بھی ایسی نہیں جسے میں جانتا (یعنی معروف یا قابلِ اعتماد سمجھتا) ہوں
[الضعفاء الكبير للعقيلي : 118/2]
وقال النسائي، فيما أخبرني محمد بن العباس، عنه: سعد بن سنان روى عنه يزيد بن أبي حبيب منكر الحديث
محمد بن عباس نے مجھے خبر دی کہ امام نسائی نے فرمایا: “سعد بن سنان، جن سے یزید بن ابی حبیب نے روایت کی ہے، منکر الحدیث ہیں
[الكامل في ضعفاء الرجال : 392/4]
ویسے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے لیے کی وعیدات عمومی دلائل میں موجود ہیں:
وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ
اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔
[سورۃ التوبہ آیت نمبر : 34]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَانِ، يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ” يَعْنِي بِشِدْقَيْهِ، يَقُولُ:” أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطا فرمائے، پھر وہ اس میں سے زکاۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل میں ہوگا، اس کی آنکھوں پر دو کالے نقطے ہوں گے۔ قیامت کے دن وہ سانپ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ
”جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 4565]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



